شان مسعود کی قیادت پر چھائے خدشات دور ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود کی قیادت پر چھائے خدشات دور ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق ایشیا کپ کے بعد پاکستان کو جنوبی افریقہ سے ٹیسٹ سیریز کا چیلنج درپیش ہے جس کا آغاز 12 اکتوبر سے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوگا۔ یہ مقابلے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہیں۔
ہیڈ کوچ اظہر محمود اور کپتان شان مسعود کی چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ملاقات کے دوران شان مسعود کو کپتانی سے ہٹائے جانے کی افواہیں دم توڑ گئیں۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے لاہور میں ملاقات کے دوران کپتان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ہوم ٹیسٹ سیریز کی تیاریوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
محسن نقوی نے کہا کہ ٹیم کے حوالے سے آپ دونوں کو فری ہینڈ دیا جا رہا ہے، میری پوری سپورٹ آپ کے ساتھ ہے۔
ملاقات میں کھلاڑیوں کی فٹنس، پریکٹس سیشنز اور ٹیم کمبی نیشن پر بھی بات چیت کی گئی۔
پی سی بی سربراہ نے امید ظاہر کی کہ قومی ٹیم بہترحکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترکر شائقین کرکٹ کو خوشی دے گی۔
چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی سے پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود اور کوچ اظہر محمود کی ملاقات
جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاریوں کے سلسلے میں گفتگو
ٹیسٹ ٹیم کے حوالے سے کپتان شان مسعود اور کوچ اظہر محمود کو فری ہینڈ
جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے… pic.
یاد رہے کہ شان مسعود کی زیر قیادت ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2023-25 میں پاکستان ٹیم سب سے آخری نمبر پر رہی تھی۔
گزشتہ ماہ اعلان شدہ سینٹرل کنٹریکٹ میں بورڈ نے شان مسعود کو بی سے ڈی کیٹیگری میں کر دیا تھا۔
دوسری جانب اظہر محمود کو معاہدے کی تکمیل کے لیے عبوری طور پر ٹیسٹ کوچ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ممکنہ طور پر وہ ایک یا دو سیریز میں ہی خدمات سرانجام دے سکیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کپتان شان مسعود شان مسعود کی ٹیسٹ سیریز محسن نقوی ٹیم کے
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔