نیویارک: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی خصوصی ایلچی برائے یوکرین کیتھ کیلاگ کو مشرقی ڈونیٹسک ریجن میں جاری جوابی کارروائی اور محاذِ جنگ کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دی ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے کیلاگ کو ڈوبروپیلیا اور پوکرووسک کے قریب یوکرینی افواج کی جوابی کارروائی کے نتائج اور محاذ پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں یوکرین اور امریکا کے درمیان تعاون کے فروغ پر بھی بات ہوئی، جس میں ڈرون ٹیکنالوجی اور امریکی ہتھیاروں کی خریداری سے متعلق دو طرفہ معاہدے شامل ہیں۔

یوکرینی صدر نے کہا کہ میں کیتھ کیلاگ کی حمایت اور تعاون اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان کوششوں پر شکر گزار ہوں جو جنگ کے خاتمے اور قتل و غارت روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

ملاقات میں یوکرین کے صدارتی دفتر کے سربراہ آندری یرماک اور قومی سلامتی و دفاعی کونسل کے سیکریٹری رستم عمروف بھی شریک تھے۔

خیال رہےکہ زیلنسکی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یوکرینی افواج ڈونیٹسک میں روسی فوج کے خلاف جوابی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں، جہاں پوکرووسک اور ڈوبروپیلیا کے قریب شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ