UrduPoint:
2026-06-03@06:16:04 GMT

یوکرین روس سے ہارے ہوئے علاقے دوبارہ حاصل کر سکتا ہے، ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT

یوکرین روس سے ہارے ہوئے علاقے دوبارہ حاصل کر سکتا ہے، ٹرمپ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 ستمبر 2025ء) منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر یوکرین کے صدر وولودمیر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین جنگ کے بارے میں اپنا موقف تبدیل کرتے نظر آئے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: "یوکرین اور روس کی فوجی اور اقتصادی صورتحال کو جاننے اور مکمل طور پر سمجھنے نیز اس سے روس کے لیے پنپنے والی اقتصادی پریشانیوں کو دیکھنے کے بعد، میری سمجھ سے یوکرین، یورپی یونین کے تعاون سے، لڑنے اور جیتنے کی پوزیشن میں ہے اور یوکرین مکمل طور پر اپنی اصل شکل میں انہیں واپس لے سکتا ہے۔

"

بحیرہ اسود کے جزیرہ نما کریمیا سمیت یوکرین کے علاقے کا تقریباً پانچواں حصہ فی الوقت جنگ کے سبب روس کے کنٹرول میں ہے۔

(جاری ہے)

تاہم، کریمیا کو سن 2014 میں غیر قانونی طور پر روس میں ضم کر لیا گیا تھا۔

منگل کو زیلنسکی سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ٹرمپ یوکرین کے امکانات پر پرامید نظر آئے۔ انہوں نے لکھا: "وقت اور صبر کے ساتھ نیز یورپ اور خاص طور پر نیٹو کی مالی مدد سے، اصل سرحدیں جہاں سے جنگ کا آغاز ہوا، بہت زیادہ متبادل موجود ہیں۔

"

تاہم روس نے اس پر طنز کیا اور اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر دمتری پولیانسکی نے ان کے اس بیان کو تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "اتنے پرجوش نہ ہوں۔"

امریکہ 'روس کو امن کی طرف' لے جائے گا

ٹرمپ نے کہا کہ روس ایک ایسی جنگ میں "بے مقصد" لڑ رہا ہے جسے ایک "حقیقی فوجی طاقت" ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں جیت سکتی تھی۔

امریکی صدر نے کہا کہ "پوٹن اور روس بڑی اقتصادی پریشانی میں ہیں، اور یہ یوکرین کے لیے کارروائی کرنے کا وقت ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ وہ دونوں ممالک کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں اور یہ کہ امریکہ "نیٹو کو ہتھیار فراہم کرتا رہے گا تاکہ وہ ان کے ساتھ جو چاہیں کریں۔"

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ٹرمپ کے اس دعوے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ واشنگٹن "روس کو امن کی طرف مائل کرے گا۔

"

زیلنسکی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا، "میں نے ابھی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ہے اور ہم نے اس بارے میں بات کی کہ آخر امن کیسے لایا جائے، اور ہم نے کچھ اچھے خیالات پر تبادلہ خیال کیا۔ مجھے امید ہے کہ وہ کام کریں گے۔"

یوکرین کے صدر نے مزید کہا کہ "میں اس ملاقات کے لیے شکرگزار ہوں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ امریکہ کے اقدامات روس کو امن کی طرف مائل کریں گے۔

ماسکو امریکہ سے ڈرتا ہے اور ہمیشہ اس پر توجہ دیتا ہے"۔ یورپ کی سلامتی یوکرین سے مربوط ہے

ٹرمپ کے لہجے میں یہ تبدیلی اس وقت آئی ہے جب روس نیٹو کی سرحد پر اشتعال انگیزی میں مصروف ہے۔ ڈنمارک کے کوپن ہیگن ہوائی اڈے پر پیر کے روز علاقے میں متعدد ڈرونز دیکھے جانے کے بعد آپریشن روک دیا تھا۔

ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ یہ واقعہ "ڈنمارک کے اہم انفراسٹرکچر پر اب تک کا سب سے سنگین حملہ ہے۔

" اگرچہ ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہو سکا ہے کہ ڈرون کس نے بھیجے تھے۔

سویڈن کے وزیر دفاع پال جونسن نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ یورپ میں سلامتی کی صورتحال کے بارے میں بات کی۔

انہوں نے کہا، "میں قیاس آرائیاں نہیں کرنا چاہتا، لیکن جیسا کہ فریڈرکسن نے کہا ہے، ہم اس بات کو نوٹ کرتے ہیں کہ اتحادیوں کی فضائی حدود میں بہت سی دراندازی ہوئی ہے۔

اس لیے میں ایسٹونیا کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ میں پولینڈ کے بارے میں اور رومانیہ کے بارے میں بھی سوچ رہا ہوں۔ اور ایسا ہوا ہے۔ مجرم روس ہے۔"

جانسن نے کہا کہ یوکرین کی حمایت کرنا "ہماری اپنی سلامتی میں سرمایہ کاری ہے، کیونکہ میرے خیال میں، اس وقت یوکرین روسی فوجی توسیع کے کسی بھی خطرے کے خلاف ڈھال ہے۔"

ادارت: جاوید اختر

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے بارے میں یوکرین کے نے کہا کہ کے ساتھ اور ہم کے بعد امن کی

پڑھیں:

بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟

وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔

ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار

بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔

وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمد

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔

ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘

انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔

’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘

پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔

حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ