Jasarat News:
2026-07-24@01:04:08 GMT

مریکہ میں ٹک ٹاک کی قدر کم نکلی، سرمایہ کار حیران

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

مریکہ میں ٹک ٹاک کی قدر کم نکلی، سرمایہ کار حیران

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا میں ٹک ٹاک کی فروخت کا معاملہ ایک بڑے تنازع میں بدل چکا ہے، کیونکہ حکومت کی جانب سے تجویز کردہ 14 ارب ڈالر کی قیمت نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ ماہرین کے لیے بھی حیران کن ہے۔

بلومبرگ کے مطابق یہ رقم کسی پرانی فوڈ کمپنی کے لیے تو قابلِ قبول ہو سکتی ہے، لیکن ایک مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لیے، جو روزانہ لاکھوں صارفین کو متحرک رکھتا ہے، یہ اندازہ نہایت کم ہے۔ اس کے برعکس ماضی میں ٹک ٹاک کی امریکی شاخ کی قدر 40 ارب ڈالر تک لگائی جا چکی تھی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ٹک ٹاک کی اصل قیمت وہی ہوگی جو خریدار ادا کرنے پر تیار ہوں گے، اور ممکنہ خریدار اوریکل کارپوریشن اور سلور لیک منیجمنٹ اس سودے کو خوش آمدید کہیں گے۔ لیکن بائیٹ ڈانس اور اس کے موجودہ سرمایہ کاروں کے لیے یہ سودہ ایک بڑے دھچکے سے کم نہیں ہوگا۔ معاشی ماہرین اسے حالیہ دہائی میں کسی بھی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کی سب سے کم قیمت میں فروخت قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ٹک ٹاک نہ صرف امریکا میں مقبول ہے بلکہ وہاں سے ہر سال تقریباً 10 ارب ڈالر کی آمدنی بھی حاصل کرتا ہے۔

امریکا ٹک ٹاک کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، جہاں 17 کروڑ سے زائد صارفین اسے استعمال کرتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین 14 ارب ڈالر کی پیشکش کو “دن دہاڑے ڈکیتی” قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ پالیسی محض سیاسی دباؤ اور معاشی مفادات کے تحت ہے، تاکہ بائیٹ ڈانس کو محدود کر کے امریکی سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ اس صورتِ حال نے عالمی سطح پر بھی سوالات کھڑے کیے ہیں کہ آیا یہ فیصلہ کاروباری اصولوں پر مبنی ہے یا محض سیاسی دشمنی کا شاخسانہ۔

تاہم، ابھی بھی کئی معاملات غیر یقینی ہیں۔ بیجنگ نے فروخت کی منظوری باضابطہ طور پر نہیں دی، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے یہ فیصلہ عجلت میں کیا ہے، بغیر اس پر چین سے تفصیلی بات کیے۔ مزید یہ کہ ٹک ٹاک کے مستقبل کے خریدار انٹرنیٹ یا کنزیومر کمپنیز نہیں بلکہ بالکل مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ اس مقبول پلیٹ فارم کو مؤثر طریقے سے چلا بھی سکیں گے یا نہیں۔ اس وقت صورتحال ایک پیچیدہ سیاسی اور معاشی رسہ کشی میں الجھی ہوئی ہے، جس کا نتیجہ آنے والے چند مہینوں میں ہی سامنے آئے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹک ٹاک کی ارب ڈالر کے لیے

پڑھیں:

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر  کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی