ڈی جی آئی ایس پی آر کی جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے علما اور طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک:جامعہ عروۃ الوثقیٰ لاہور میں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی علما اور طلبہ سے خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا۔
مدیر اعلیٰ جامعہ عروۃ الوثقیٰ سید جواد نقوی نے قومی شعور کی بیداری کو نسل نو کی تعلیم و تربیت کے لیے لازم قرار دیا۔
طلباء و طالبات نے آپریشن بنیان مرصوص کی تاریخی فتح پر افواج پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
طلبہ نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جس وسیع القلبی سے ہمارے سوالات کے مدلل جواب دیے گئے وہ انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزاء ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانیوالے منفی پراپیگنڈے کے حوالے سے تمام شکوک و شبہات دور ہوگئے۔
مجسٹریٹ کافوڈاتھارٹی کی قبضےمیں لی گئی اشیاملزم کوسپرداری پردینےکاآرڈرکالعدم قرار
طلبہ نے کہا کہ پاک فوج ہماری آن اور شان ہے اور پوری قوم سمیت دینی مکاتبِ فکر بھی اپنی افواج کے ہمراہ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔