امریکی ’’اے آئی ‘‘منصوبہ’’ریپلیکیٹر‘‘ اہداف میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بحرالکاہل میں چین کی تیز رفتار فوجی توسیع کے پیشِ نظر شروع کردہ امریکی منصوبے ’’ریپلیکیٹر‘‘ کو اپنی توقعات کے مطابق کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ یہ پروگرام 2023 میں نائب وزیر دفاع کیتھلین ہکس نے متعارف کروایا تھا جس کا مقصد ہزاروں چھوٹے، خودکار اور مصنوعی ذہانت سے لیس ڈرونز اور دیگر خودمختار نظام تیز رفتار انداز میں خریدنا اور میدان عمل میں لانا تھا۔
رپورٹ کے اہم نکات:
منصوبہ اگست 2025 تک فضائی، زمینی اور بحری سطح پر ہزاروں خودکار نظام فراہم کرنے کا ہدف رکھتا تھا، مگر فنی خامیوں، پروڈکشن کی سست رفتاری اور بلند اخراجات کے باعث یہ اہداف پورے نہ ہو سکے۔
کچھ ڈرونز ناقابلِ اعتماد ثابت ہوئے، کچھ مہنگے نکلے اور متعدد سافٹ ویئر مسائل کی وجہ سے مختلف کمپنیوں کے نظاموں کو ایک ساتھ مربوط کر کے مؤثر نشانہ سازی ممکن نہ ہو پائی۔
مشقوں میں تکنیکی ناکامیاں بھی سامنے آئیں — مثال کے طور پر بغیر پائلٹ کشتی کا اسٹیئرنگ فیل ہو جانا اور بعض ڈرونز کی لانچنگ میں تاخیر۔ کئی نظام شناخت اور نشانہ بنانے میں درست نتائج نہ دے سکے۔
پروگرام کے دوران خریدے گئے درجن بھر نظاموں میں سے کچھ نامکمل یا صرف خاکے کی شکل میں رہے؛ بعض ماڈیولز طویل فاصلے اور پیچیدہ مشنز کے لیے موزوں ثابت نہیں ہوئے۔
اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ ریپلیکیٹر نے دو سال میں ڈرون سسٹمز کی خریداری، جانچ اور ڈیویلپمنٹ کے عمل کو روایتی رفتار سے تیز کیا — یعنی اس نے کچھ عملی فوائد بھی دیے۔
پینٹاگون نے اب یہ ذمہ داری اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے تحت قائم کردہ ڈیفنس آٹونومس وارفیئر گروپ (DAWG) کو سونپ دی ہے، جس کی قیادت لیفٹیننٹ جنرل فرینک ڈونووان کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد عمل کو تیز کرنا اور درست، قابلِ بھروسہ ہتھیاروں پر توجہ مرکوز کرنا ہے — چونکہ بحرِ الکاہل میں چین کے بڑھتے ہوئے اثاثوں کے پیشِ نظر واشنگٹن کو تیزی سے مؤثر آپشنز درکار ہیں۔
اخباری تجزیہ کے مطابق خودکار ڈرون فلیٹس جنگی حکمتِ عملی بدل سکتے ہیں — دشمن کے دفاعی نظام پر دباؤ ڈالنا، دشمن کو الجھانا اور جانی نقصان کم رکھنا ممکن بن سکتے ہیں — مگر یہ ٹیکنالوجی مواصلاتی خلل اور تکنیکی حدود کی صورت میں کمزور بھی پڑ سکتی ہے۔ DAWG کے پاس اب پینٹاگون کے لیے مطلوبہ نظام فراہم کرنے میں کم وقت باقی ہے، اور اس کا کامیاب ہونا مستقبل کی فوجی تیاریوں کے لیے اہم مانا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ