Express News:
2026-06-03@03:47:46 GMT

’’ایک روٹی پانا بھی کٹھن جدوجہد بن گیا‘‘

اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT

 غزہ شہر کی تباہ حال گلیوں سے ہانی ابو رزق گزر رَہا ہے۔ اْس نے اپنے پیٹ کے ساتھ رسی کی مدد سے دو اِینٹیں باندھ رکھی ہیں۔ یوں اْس نے بھی بھوک مٹانے کے لیے اپنے اجداد کا طریق اختیار کر لیا۔ یہ 31 سالہ نوجوان اپنی ماں اور سات بہن بھائیوں کے ساتھ رہتا ہے اور یہ سب پیٹ کے ساتھ اینٹیں باندھ کر کھانے کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ یہ ایک ایسی قدیم تکنیک ہے جسے اپنانے کا ہانی ابو رزق نے غزہ کی حالیہ جنگ سے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

’’ہم بھوکے ہیں۔‘‘ وہ کہتا ہے۔ تھکن سے اْس کی آواز کھوکھلی ہے۔ ’’یہاں تک کہ ایک لفظ کے طور پر بھوک بھی اْس تکلیف سے کم ہے جو ہم سب محسوس کر رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتا ہے۔ اْس کی آنکھیں گزرتے لوگوں کے پیچھے چل رہی ہیں۔

وہ اَپنی کمر کے گرد رَسّی ایڈجسٹ کرتا ہے، ایسا اشارہ جو سانس لینے کی طرح معمول بن گیا ہے۔ ہانی ابو رزق کا کہنا ہے ’’جب ہمیں کھانے کو نہیں ملا، تو ہم قدیم زمانے کے لوگوں کی طرح پیٹ کے گرد پتھر باندھ کر اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کرنے لگے۔ یہ صرف جنگ نہیں، یہ جان بْوجھ کر پھیلایا گیا قحط ہے۔‘‘

غزہ کے دل کی دھڑکن ختم ہو رَہی

اکتوبر 2023ء میں غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے آغاز سے پہلے خوراک ہی غزہ میں روزمرہ زندگی کے دل کی دھڑکن تھی۔ سب لوگ اپنے پروگرام اجتماعی کھانوں کے اردگرد بناتے تھے۔ زاتار اَور زیتون کے چمکیلے تیل کے ناشتے، پرتوں والے مقلوبہ اور مساخان کے لنچ جو گھروں کو گرمی سے بھر دیتے اور شامیں چاولوں کی ٹرے، نرم گوشت اور باغات کی جڑی بْوٹیوں سے مہکتے موسمی سلاد کے اردگرد گزاری جاتی تھیں۔

غم میں ڈوبا ہانی ابو رزق اْن دنوں کو اَیسے یاد کرتا ہے جیسے کسی فوت شدہ قریبی عزیز کو یاد کر رہا ہو۔ یہ کنوارا نوجوان خاندان اور دَوستوں کے ساتھ کھانا کھانے اور اِکٹھے ہونا پسند کرتا تھا۔ وہ کھانے کے آرام دہ کمروں کے بارے میں بات کرتا ہے جہاں گھر میں دی گئی دعوتیں آرٹ کا نمونہ لگتی تھیں اور شامیں میٹھے اور مسالہ دار مشروبات سے بھری ہوتیں جو زبانوں اور یادوں میں رہ جاتی ہیں۔

وہ کہتا ہے ’’اب تو اہلِ غزہ کے لیے روٹی تو کیا ٹماٹر یا ککڑی بھی عیش و آرام کی چیز بن چکے … ہم اِنھیں خواب میں ہی کھا پاتے ہیں۔ غزہ تمام عالمی دارالحکومتوں سے زیادہ مہنگا ہو گیا ہے اور ہمارے پاس خریدنے کے لیے کچھ بھی رقم نہیں۔‘‘

جنگ کے تقریباً چوبیس مہینوں کے دوران غزہ میں خوراک کی مقدار میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ محاصرہ شدہ پٹی اسرائیل کے مکمل رحم و کرم پر ہے جس نے آٹے سے لے کر کھانا پکانے کی گیس تک ہر چیز کی رسائی محدود کر دی ہے۔

لیکن 2 مارچ کے بعد تو غزہ میں خوراک اور دِیگر ضروری اشیا کی ترسیل خوفناک حد تک کم ہو گئی۔ اسرائیل نے مارچ سے مئی تک تمام خوراک مکمل طور پر روک دی اور اْس کے بعد صرف کم سے کم امداد کی ترسیل کی اجازت دی۔ اسرائیل کے اِس طرزِعمل کی گو بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مذمت ہوئی مگر اہلِ غزہ کے دکھوں کا مداوا نہ ہو سکا۔

بچوں کو تکلیف میں دیکھنا

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے دوران کم از کم ڈیرھ ہزار فلسطینی جن میں کئی بچے اور نوزائیدہ شامل ہیں، غذا کی قلت اور پانی کی کمی سے ہلاک ہو چکے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ ’’مکمل قحط‘‘ پورے علاقے میں پھیل جائے گا جبکہ یونیسیف نے رپورٹ کیا ہے کہ شمالی غزہ میں پانچ سال سے کم عمر کے تین میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔

فدا حسن، ایک سابق نرس اور جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں مقیم تین بچوں کی ماں ہیں جو غذائی قلت کی علامات جانتی ہیں۔ مغربی غزہ میں اپنے بے گھر خاندان کی پناہ گاہ سے بتاتی ہیں: ’’بھوک میرے بچوں کے اجسام میں گہرائی تک سرایت کر چکی۔‘‘ اْس کا سب سے چھوٹا بچہ، دو سالہ حسن ہر صبح کھانے کے لیے روتا ہوا اْٹھتا اور رَوٹی مانگتا ہے جو موجود نہیں ہوتی۔

’’ہم نے اپنے ہر بچے کی سالگرہ جنگ سے پہلے اچھی دعوتیں کر کے منائی، سوائے حسن کے۔ وہ دَو مہینے پہلے پیدا ہو گیا تھا اور اَب مَیں اْسے مناسب کھانا بھی نہیں دے سکتی۔‘‘ وہ آنکھوں میں آنسو لیے کہتی ہیں۔

فدا حسن کا مزید کہنا ہے کہ اْن کی دس سالہ بیٹی، فراس شدید غذائی قلت کی ظاہری علامات ظاہر کرتی ہے اور جنہیں وہ دَردناک جذبہ لیے پہچانتی ہے۔ جنگ سے پہلے اْن کا گھر کھانے کے اوقات میں زندگی سے گونجتا تھا۔ ’’ہم دن میں تین یا چار بار کھاتے تھے۔‘‘ وہ یاد کرتی ہیں۔ ’’دوپہر کا کھانا اکٹھا ہونے کا وقت تھا۔ سردیوں کی شامیں دال کے سوپ کی خوشبو سے بھری ہوتی تھیں۔ ہم بہار کی دوپہریں بیل کے پتوں سے بھرے ہوئے خوشبودار ماحول میں گزارتے۔

’’اب ہم … ہم بھوکے سوتے ہیں۔ نہ آٹا ہے، نہ روٹی، نہ پیٹ بھرنے کے لیے کچھ ہے۔‘‘ وہ حسن کا کانپتا چھوٹا سا جسم سینے سے لپٹائے کہتی ہیں۔ ’’ہم نے دو ہفتوں سے ایک روٹی نہیں کھائی۔ ایک کلو آٹے کی قیمت 150 شیکل (40 ڈالر) ہو چکی اور ہم اْسے خریدنا برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘

جب بمباری شروع ہوئی، تو حسن چھ ماہ کا تھا۔ اب دو سال کی عمر میں بھی اپنی عمر کے ایک صحت مند بچے سے بہت کم مشابہت رکھتا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا محاصرہ اَور اِنسانی امداد پر پابندیاں انسان ساختہ قحط کے حالات پیدا کر رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی اْمور کے مطابق عام حالات میں غزہ میں روزانہ درکار خوراک اور سامان کے 600 ٹرکوں میں سے صرف ایک حصّہ ہی پہنچ رہا ہے۔

سیکورٹی کے فقدان کے درمیان غزہ میں داخل ہونے والی انسانی امداد گروہوں اور لْوٹ مار کا نشانہ بن جاتی ہے۔ یہ عمل ضرورت مند لوگوں کو قلیل سامان تک رسائی سے روک دیتا ہے۔ مزیدبراں مئی سے امریکا اور اِسرائیلی حمایت یافتہ تنظیم، جی ایچ ایف (GHF) کی طرف سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران امداد کے متلاشی سینکڑوں مایوس اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں گولی کھا کر شہید ہو چکے۔

امریکی کمپنیوں کا ہاتھ

وہ دیھیے، ہزاروں بھوکے لوگ شدید گرمی میںآٹے کے تھیلے پانے کے لیے گھنٹوں انتظار کر رہے ہیں۔ یہ تھیلے صرف دس منٹ میں بَٹ جاتے ہیں اور جنہیں تھیلے نہیں ملتے، وہ مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ یہ غزہ میں قائم چار اِمدادی مراکز میں نظرآتا عام منظر ہے۔ اِس مایوسی کی وجہ قلت نہیں کیوںکہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے پاس غذائی قلت کے شکار فلسطینیوں تک پہنچانے کے لیے بہت ساری خوراک موجود ہے مگر اسرائیل نے اْسے اجازت نہیں دی۔

مسئلہ اسرائیل کی کئی مہینوں سے جاری امداد کی ناکہ بندی ہے جس کے بارے میں سو سے زیادہ اِنسانی تنظیموں نے کہا ہے کہ یہ افراتفری ’’بھوک اور موت‘‘ کا سبب بن گئی۔ اگرچہ اسرائیلی حکام نے ماہِ جولائی کے آخر میں قافلوں کو دوبارہ غذا ترسیل شروع کرنے کی اجازت دے دی لیکن پھر بھی غزہ کے تین میں سے ایک باشندے کو خوراک نہ مل سکی جبکہ اِس سے پہلے درجنوں فلسطینی بھوک سے مر چکے۔

اِس اسرائیل ساختہ قحط کے درمیان تاہم اسرائیلی حکومت نے ایک اور قسم کی کھیپ کو آزادانہ طور پر آنے کی اجازت دیے رکھی … ہتھیاروں کی درآمدات بلاروک ٹوک جاری ہیں، ہزاروں پاونڈ بم، بندوقیں اور گولہ بارود اِسرائیل کی دفاعی افواج میں ڈالا جا رہا ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ، فرانسسکا البانیس کی ایک نئی رپورٹ نے اِس مہلک سازوسامان کے بڑے سپلائی کنندہ … امریکا کا پردہ فاش کیا ہے۔

’’قبضے کی معیشت سے نسل کشی کی معیشت تک‘‘ کے عنوان سے جاری یہ رپورٹ بے نقاب کرتی ہے کہ کس طرح بڑی امریکی کارپوریشنیں اربوں ڈالر کی آمدنی کے عوض غزہ میں اسرائیل کے مظالم برقرار رکھنے کی سہولت فراہم کرنے کو بے چَین ہیں۔ یہ رویّہ اکیسویں صدی کے بدترین انسانی بحران میں امریکی قوم کی ناقابلِ تردید شراکت بھی ظاہر کرتا ہے۔

جنگ سے منافع خوری کا عجوبہ قدیم جڑیں رکھتا ہے۔ فرانسسکا البانیس کی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ امریکا کا ’’ملٹری۔صنعتی۔ٹیکنالوجیکل کمپلیکس‘‘ فلسطین میں جاری اسرائیلی مظالم کے ذریعے منفرد طور پر خوفناک کمائی کر رہا ہے۔ رپورٹ بیان کرتی ہے کہ کس طرح لاک ہیڈ مارٹن کی قیادت میں امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں نے اسرائیل کے لیے لڑاکا طیارے بنائے ہیں جن کی بمباری سے ً دو لاکھ سے زیادہ فلسطینی شہید یا زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹ اسرائیلی فوج کے ساتھ امریکی کمپنی، پالانٹیر (Palantir) کی شراکت اور تل ابیب میں ایک بورڈ میٹنگ کے ذریعے اِس شراکت داری کی تکمیل کے بارے میں افشا کرتی ہے (پالانٹیر نے غزہ کے اہداف کی نشان دہی کرتے اسرائیلی فضائیہ کے پروگراموں میں شمولیت سے انکار کیا ہے)۔ رپورٹ اِس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ کس طرح امریکی کمپنی، کیٹرپلر انک کے آلات نے اہلِ غزہ کے مکان اور اَسپتال منہدم کیے اور اْن ڈھانچوں کے اندر پھنسے شہری کچل کر ہلاک کر دیے۔

شاید سب سے زیادہ منافق اور مجرم ’’میگنی فیسنٹ سیون‘‘ کی رکن سات بڑی امریکی کمپنیاں ہیں۔ گوگل کمپنی کا غیرسرکاری نعرہ کبھی ’’برائی نہ کرو‘‘ تھا لیکن کمپنی نے مائیکرو سافٹ اور اَیمیزن جیسی مہا کمپنیوں کی شراکت سے اسرائیل اور اْس کی فوج کو کلاوڈ کمپیوٹنگ سروسز فراہم کیں جس کے عوض اْنھیں اربوں ڈالر ادا کیے گئے۔ رپورٹ ایک اسرائیلی کرنل کا حوالہ دیتی ہے جس نے کلاوڈ کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کو ’’ہر لفظ کے معنی میں ایک ہتھیار‘‘ کہا اور بتایا ’’یہ ٹیکنالوجی کسی بھی زہریلی گیس کی طرح مہلک ہے۔‘‘

ٹرمپ انتظامیہ نے فرانسسکا البانیس کی تحقیق کا جواب انکار اَور اِنتقام کے کلاسک امتزاج کے ساتھ دیا۔ سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے فرانسسکا کے کام کو ’’سیاسی اور معاشی جنگ‘‘ قرار دَیتے ہوئے اْن پہ پابندی لگانے کا عندیہ دیا۔

لیکن فرانسسکا البانیس کی تحقیق کے نتائج کئی ممتاز یہودی اور اِسرائیلی شخصیات کی تحقیقات کے نتائج سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ کے سابق فوجی اور نسل کشی کے سرکردہ تاریخ دان، عمر بارتوف نے البانیس کا دفاع کرتے ہوئے لکھا ’’مَیں ایک چوتھائی صدی سے نسل کشی پر کلاسز پڑھا رہا ہوں۔ جب مَیں کسی نسل کشی کو دیکھتا ہوں، تو اْسے پہچان سکتا ہوں اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔‘‘

اِسی طرح جولائی کے آخری ہفتے اسرائیل میں انسانی حقوق کے دو بڑے گروپوں نے اعلان کیا کہ وہ اِس وضاحت سے متفق ہیں۔ رسالے ’’جیوش کرنٹس‘‘ کے ایڈیٹر ایٹ لارج اور صحافی، پیٹر بینارٹ نے اسرائیل کو ایک نسل پرست ریاست قرار دِیا اور غزہ کے بحران کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’’وہاں موت اور مصائب کی ایک حیران کن سطح معمول پر آ گئی ہے۔‘‘ اسرائیلی اخبار ’’ہیرٹز‘‘ میں بھی سرخیاں کچھ یوں پڑھنے کو ملتی ہیں: ’’بھوک کی ریاضی‘‘ اور ’’غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں تباہی‘‘۔

امریکی دارالحکومت میں ایوانِ نمائندگان کی رکن نمائندہ رَاشدہ طلیب اور سینیٹر برنی سینڈرز جیسے ترقی پسند قانون سازوں نے بارہا اسرائیل کو اَمریکی ہتھیاروں کی منتقلی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مٹھی بھر دیگر ڈیموکریٹس نے ’’بلاک دی بمز ایکٹ‘‘ بھی متعارف کرایا جو کانگریس کی منظوری کے بغیر کچھ ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی لگائے گا، بشمول بوئنگ اور جنرل ڈائنامکس جیسی امریکی کمپنیوں کے بنائے گئے ہتھیار۔

اگرچہ اِس قانونی بل نے کم توجہ حاصل کی، غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم پر غم و غصّہ امریکی ووٹروں کے درمیان دوطرفہ اتفاقِ رائے بن گیا۔ اب صرف 32 فی صد امریکی اسرائیل کے فوجی اقدامات جائز سمجھتے ہیں۔ لیکن محمود خلیل جیسے کارکنوں کو فلسطین کی حمایت کرنے پر ملک بدری کا سامنا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والے دیگر فلسطین کے حامی مظاہروں کو وحشیانہ یہاں تک کہ مہلک جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جذبات کو سماجی تحریک میں تبدیل کرنا مشکل کام ہے۔

امریکا میں فلسطین کے حامیوں کو زبردستی پیچھے دھکیل دیاگیا ہے۔ امریکی عوام کو مگر اسرائیل کی جانب ہتھیاروں کی برآمدات کے خلاف منظم کرنا اب بھی ممکن ہے۔ اسرائیل، امریکا اور پوری دنیا میں طلبہ انتقامی کارروائی، اخراج اور بلیک لسٹ کرنے کی دھمکیوں کے باوجود پہلے ہی اِس محاذ پر اخلاقی گواہی دے رہے ہیں۔ اب امریکی قانون سازوں کو اِس بات پر قائل کرنے کے لیے ایک وسیع تر اتحاد ضروری ہے کہ اْنھیں اسرائیل نواز تنظیموں کی طرف سے ملے چیلنج سے زیادہ عوامی ردِعمل سے ڈرنا چاہیے۔

سڑکوں پر آنے کے علاوہ اَمریکی عوام اپنی اْن کارپوریشنوں کا بائیکاٹ بھی کر سکتے ہیں جن کے تعاون سے اسرائیل اہلِ فلسطین کی آبادی کم کرنے میں مصروف ہے۔ اْن کمپنیوں کے ملازمین بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں جیسے کہ گوگل میں اب برطرف شدہ 50 کارکنان نے پچھلے سال ’’نو ٹیک فار اپتھائیڈ‘‘ کے احتجاج کی قیادت کی تھی۔ بصورتِ دیگر حال ہی میں امریکی صحافی پیٹر بینارٹ کی طرف سے جاری کیا گیا انتباہ دْرست قرار پائے گا: ’’امریکیوں کی حیثیت سے ہمارے ہاتھوں پر خون پھیلا ہے کیوںکہ یہ ہمارے ہی ہتھیار ہیں جو اِن (فلسطینی) بچوں کی بھوک سے مرنے کے ذمے دار بنے۔‘‘

اِس دوران خان یونس کے پیاسے ننھے بچے پانی کے چند قطرے پینے کا انتظار کرتے اور غزہ شہر کے کمزور ہوتے ڈاکٹر کھانے کے لیے معیاد ختم ہونے والی غذاؤں کے چند ڈبے پانے کی خاطر تڑپتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

قابلِ فخر سعد ایدھی

کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔

سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔

اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔

غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔

یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔

ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔

بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔

سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔

انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔

فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان