افغانستان: طالبان حکومت نے امریکی شہری امیر امیری کو رہا کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
کابل: افغانستان کی طالبان حکومت نے ایک امریکی شہری امیر امیری کو جیل سے رہا کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
افغان وزارتِ خارجہ نے بیان میں بتایا کہ امیر امیری کو امریکا کے یرغمالیوں کے لیے خصوصی ایلچی ایڈم بوہلر کے حوالے کیا گیا۔
بوہلر نے رواں ماہ کے آغاز میں کابل کا غیر معمولی دورہ کیا تھا جس میں طالبان حکام کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کی گئی تھی۔
افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق حکومت شہریوں کے معاملات کو سیاسی زاویے سے نہیں دیکھتی بلکہ سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔
غیر ملکی ذرائع کا کہنا ہے کہ امیر امیری کے کیس کے بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں اور یہ معاملہ میڈیا میں بھی زیادہ رپورٹ نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ طالبان حکومت نے 20 ستمبر کو برطانوی شہری پیٹر رینالڈز اور ان کی اہلیہ کو بھی 8 ماہ حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیا تھا۔ ان رہائیوں میں قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔