گلوبل صمود فلوٹیلا کو غزہ میں پہنچنے سے روکنے کیلئے اسرائیل نے فوجی تیاریاں تیز کردیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
تل ابیب: اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے ’’صمود فلوٹیلا‘‘ کی متوقع آمد کے پیشِ نظر فوجی تیاریوں میں تیزی کر دی ہے۔
یہ عالمی بحری بیڑہ، جس میں 40 ممالک کے 500 سے زائد کارکن شامل ہیں، جلد غزہ کے ساحلوں تک پہنچنے والا ہے۔ اس دوران یہودیوں کا مذہبی تہوار ’’یوم الغفران‘‘ بھی منایا جا رہا ہوگا۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی کمانڈوز نے سمندری کارروائیوں کی مشقیں مکمل کر لی ہیں جبکہ وزارت صحت نے ملک کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
بیڑے میں شامل تقریباً 50 کشتیوں کا مقصد 18 سال سے جاری غزہ کے محاصرے کو توڑنا اور وہاں خوراک و ادویات پہنچانا ہے۔
اسرائیل نے تجویز دی تھی کہ امداد اشکلون، قبرص یا ویٹیکن کے ذریعے منتقل کی جائے، تاہم منتظمین نے یہ تجویز مسترد کر دی۔
رپورٹس کے مطابق بحری بیڑے پر پہلے ہی ڈرون حملے ہو چکے ہیں جن میں 9 کشتیوں کو نقصان پہنچا۔ اس سے قبل جون اور جولائی میں بھی دو کشتیاں (مادلین اور حنظلہ) اسرائیل نے روک لی تھیں۔
غزہ میں اس وقت قحط، ادویات کی شدید قلت اور بھوک سے درجنوں افراد جاں بحق ہو رہے ہیں۔ وزارت صحت غزہ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ میں اب تک 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 68 ہزار زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیل نے کے مطابق
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔