پاکستان نے بانڈز کے اجرا سے 40 کروڑ ڈالرحاصل کرنے کا ہدف مقرر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 ستمبر2025ء)پاکستان نے انٹرنیشنل کیپٹل مارکیٹ میں واپسی کے اقدامات کے تحت بانڈز کے اجرا سے تقریبا 40 کروڑ ڈالر حاصل کرنے کا ہدف مقرر کردیا، یہ قرضہ چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈز اور انٹرنیشنل کیپٹل مارکیٹ میں پائیدار بانڈز جاری کرنے سے حاصل کیا جائے گا۔
(جاری ہے)
وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق حکومت تقریبا 40 کروڑ ڈالر بانڈز کے اجرا سے حاصل کرنا چاہتی ہے، حکومت کا پانڈا بانڈز چینی کیپٹل مارکیٹ اور پائیدار بانڈز انٹرنیشنل کیپٹل مارکیٹ میں جاری کرنے کا ارادہ ہے۔
دستاویز کے مطابق پاکستان رواں مالی سال 26-2025 کے دوران یورو بانڈز کی مد میں مجموعی طور پر ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی ادائیگی بھی کرے گا۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پانڈا بانڈز کے ذریعے قرضہ حاصل کرنے کا پلان ہے، یہ بانڈز چین کی نیشنل انٹربینک مارکیٹ میں نجی طور پر رکھنے کا منصوبہ ہے، بانڈز منافع سالانہ 3 سے 4 فیصد اور مدت 3 سال متوقع ہے۔پاکستان اس سے پہلے ڈالرز اور یورو میں بانڈز جاری کرچکا ہے اور پاکستان کاچینی کیپیٹل مارکیٹ میں یہ پہلا تجربہ ہوگا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کیپٹل مارکیٹ مارکیٹ میں بانڈز کے کرنے کا
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔