جی ایچ کیو حملہ کیس: گواہوں کے بیان دوبارہ لینے کی استدعا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی (جسارت نیوز) جی ایچ کیو حملہ کیس میں وکلائے صفائی نے عمران خان کی موجودگی کے بغیر ریکارڈ کیے گئے 13 گواہوں کے بیان دوبارہ لینے کی درخواست دائر کردی۔ منگل کو جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت جج امجد علی شاہ کی طبیعت ناسازی کی وجہ سے 7 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔ عدالتی عملے نے بتایا کہ جج کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی انہوں نے چھٹی لے لی ہے، جس کے بعد وکلائے صفائی حاضری لگا کر واپس روانہ ہو گئے جبکہ ملزمان کو بھی حاضری لگا کر واپس بھیج دیا گیا۔سماعت کے موقع پر آئے ہوئے تینوں سرکاری گواہان بھی حاضری لگوا کر واپس روانہ ہو گئے۔ بعد ازاں کیس میں وکلائے صفائی نے بانی چیئرمین عمران خان کے بغیر ریکارڈ کیے گئے 13 گواہان سے بیان دوبارہ لینے کی درخواست دائر کر دی ، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان گواہان نے کیا کہا ؟ عمران خان نے کچھ نہیں سنا۔ ملزم اور وکلا کی عدم موجودگی میں ریکارڈ بیانات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، ملزم کے سامنے بیان ریکارڈ ہونا لازم ہے۔وکلائے صفائی کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کردیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وکلائے صفائی
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔