Islam Times:
2026-06-03@07:35:58 GMT

افغانستان میں انٹرنیٹ کی بندش سے پروازیں منسوخ

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

افغانستان میں انٹرنیٹ کی بندش سے پروازیں منسوخ

یو این اسسٹنس مشن ان افغانستان (یوناما) نے اپنے بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ سے آن لائن بزنس، بینکنگ سسٹم، رقوم کی ترسیل اور روزمرہ خدمات ٹھپ ہو گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کی بندش کے بعد کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں۔ اس اقدام سے ملک مکمل طور پر دنیا سے کٹ گیا ہے اور شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ نے منگل کے روز طالبان حکام سے فوری طور پر انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن سروسز بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بندش افغان عوام کو مزید معاشی مشکلات اور انسانی بحران میں دھکیل دے گی۔ یو این اسسٹنس مشن ان افغانستان (یوناما) نے اپنے بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ سے آن لائن بزنس، بینکنگ سسٹم، رقوم کی ترسیل اور روزمرہ خدمات ٹھپ ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال نے افغانستان کو تقریباً مکمل طور پر دنیا سے الگ تھلگ کر دیا ہے۔ یو این کے مطابق یہ اقدام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس سے خواتین اور بچیوں پر خاص طور پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی عوامی زندگی سے باہر کی جا چکی ہیں۔ کابل میں بینکوں کے عملے نے بتایا کہ آن لائن ٹرانزیکشنز، رقوم کی منتقلی اور نقدی نکالنے کا عمل مکمل طور پر رک چکا ہے، جبکہ ڈاک خانے نے بھی کام بند کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ طالبان حکومت نے پیر کی شام فائبر آپٹک نیٹ ورک کاٹنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں موبائل فون اور انٹرنیٹ دونوں سروسز متاثر ہوئیں۔ نٹ بلاکس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ اقدام جان بوجھ کر کی گئی بندش کے مترادف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی