لہہ ایپکس باڈی کا بھارتی حکومت کے ساتھ مذاکرات سے دستبردار ہونے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
چیوانگ نے لہہ میں 24 ستمبر کو مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کی عدالتی انکوائری اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک سمیت گرفتار افراد کے خلاف مقدمات کی واپسی کا اپنا مطالبہ دہرایا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں لہہ اپیکس باڈی نے بھارتی حکومت کے ساتھ نئی دہلی میں 6 اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایپکس باڈی نے یہ فیصلہ لہہ میں حالیہ مظاہروں کے دوران 4 افراد کی ہلاکت اور 50 سے زائد زخمی ہونے کے بعد کیا ہے۔ ایپکس باڈی کے سینئر رکن تھوپستان چھیوانگ نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے اس وقت تک حکومت سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے لہہ میں 24 ستمبر کو مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کی عدالتی انکوائری اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک سمیت گرفتار افراد کے خلاف مقدمات کی واپسی کا اپنا مطالبہ دہرایا۔ چیوانگ نے کہا کہ کوئی بھی بات چیت شروع ہونے سے پہلے امن و امان کی صورتحال کو بحال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بھارتی وزارت داخلہ، یونین ٹیریٹری انتظامیہ اور ضلعی حکام سے موجودہ کشیدہ صورتحال میں بہتری کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں میں پائے جانیوالے خوف و دہشت کو دور کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد ہی بات چیت ہو سکتی ہے۔ کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے ایک بیان میں لہہ اپیکس باڈی کے مطالبات کو دہرایا ہے۔ ڈیموکریٹک الائنس کے رکن، سجاد کرگیلی نے وانگچک کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔