اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا روکنے کا منصوبہ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
فلسطین کی مظلوم عوام کے لیے امداد لے جانے والا “گلوبل صمود فلوٹیلا” اسرائیلی رکاوٹوں کا شکار ہوگیا۔
عرب میڈیا کے مطابق امدادی بیڑا غزہ کی سمت بڑھتے ہوئے ہائی رسک زون میں داخل ہوا تو صیہونی بحری جہازوں نے اس کا گھیراؤ کر لیا اور 2 مرکزی کشتیوں کے کمیونیکیشن سسٹم کو جام کردیا۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کین نے انکشاف کیا ہے کہ قابض افواج فلوٹیلا کو روکنے کے لیے کشتیوں کو سمندر میں ڈبونے تک کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔
دوسری جانب، فلوٹیلا سے وابستہ بعض اٹلی کے جہاز پیچھے ہٹ گئے ہیں جس پر اقوام متحدہ کی فلسطین کے لیے خصوصی نمائندہ فرانچیسکا البانیز نے شدید تنقید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اسرائیل کو مزید مظالم اور نسل کشی کے لیے کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے۔
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے بھی عالمی برادری کو خبردار کیا کہ پُرامن امدادی مشن پر کسی قسم کا حملہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوگا بلکہ اسے انسانیت کے خلاف جرم سمجھا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل صمود فلوٹیلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل صمود فلوٹیلا کے لیے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔