75 سالہ ضعیف 35 سالہ خاتون سے شادی کی اگلی صبح ہی انتقال کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع جونپور میں 75 سالہ شخص 35 سالہ خاتون سے شادی کے اگلے روز ہی انتقال کرگیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سنگرو رام نامی شخص پیشے سے کسان تھا، ایک سال قبل سنگرورام کی پہلی اہلیہ انتقال کرگئی تھیں جس کے بعد اب تک سنگرو تنہا زندگی گزار رہا تھا۔
حال ہی میں سنگرو نے دوسری شادی کا فیصلہ کیا تاہم گاؤں والوں نے سنگرو کو اس عمر میں شادی سے روکنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود سنگرو نے 35 سالہ منبھاوتی سے کورٹ میرج کرلی جس کے بعد مندر میں دونوں کیلئے ایک چھوٹی سی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق منبھاوتی کی بھی یہ دوسری شادی تھی، اس کے پہلے شوہر سے اس کی 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، سنگرو نے اسے یقین دلایا تھا کہ شادی کے بعد اس کے بچوں کی بھی دیکھ بھال وہ خود کرے گا۔
منبھاوتی کے مطابق’شادی کے اگلے روز صبح سویرے اچانک ہی سنگرو کی طبیعت خراب ہوگئی، اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دے دیا‘۔
دوسری جانب سنگرو کی شادی کے اگلے روز ہی موت پر اہل خانہ نے شکوک وشبہات کا اظہار کرتے ہوئے پولیس میں مقدمہ درج کرادیا۔
سنگرو رام کے رشتے داروں کی جانب سے اس کی موت کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پولیس نے سنگرو کی موت کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے لاش پوسٹ مارٹم کیلئے اسپتال منتقل کردی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شادی کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔