لاہور:

پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ہم ماضی میں حکومت سے جیسے علیحدہ ہوئے وہ ہمیں یاد ہے بھولے نہیں، ملکی حالات کے پیش نظر ہم خرابی نہیں چاہتے تھے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم نے نیک نیتی سے حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بدقسمتی سے حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی تمام شقوں پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے پاور شیئرنگ نہیں کر رہے بلکہ سپورٹ کر رہے ہیں، ہم نے وزارتیں لیے بغیر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا لیکن اس کا مطلب کوئی بلینک چیک دینا نہیں تھا کہ حکومت جو چاہے کرتی رہے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سوچ تھی ملک کے مسائل کا حل نکالنا ہے، ہم نے حکومت کو ہر مقام پر سپورٹ کیا، کوئی احسان نہیں کیا، ہم بھی پنجاب والے ہیں لیکن کوئی تجویز دیتے ہیں تو یہ سیخ پا ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے مختلف بحران کا شکار رہا اور ہر حکومت نے بحران سے نمٹنے کی کوشش کی، آج بھی دہشت گردی اور بارڈر کے مسائل سمیت مختلف مشکلات ہیں۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اچانک کچھ دنوں سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہے، اس کا نہ جمہوریت اور نہ سیاست کو فائدہ ہے، جنگی حالات سمیت ہر موقع پر حکومت کو سپورٹ کیا لیکن اس مطلب یہ نہیں مسلم لیگ ن جو کرے گی ہم خاموش رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں سے پیپلز پارٹی اور پنجاب حکومت کے درمیان مکالمہ شروع ہوا، ہم پچھلی حکومت میں بھی ان کے ساتھ تھے اور ہم ماضی کے زخموں کو بھلانا چاہتے ہیں۔ ن لیگ کے دوستوں سے درخواست ہے کہ اس طرح کا لہجہ اور لفظ استعمال نہ کریں جس سے مسائل پیدا ہوں، بلاول بھٹو بہت تحمل سے چیزوں کو لے کر آگے چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بار خوفناک سیلاب آیا اور بہت نقصان ہوا ہے، پنجاب اور سندھ حکومت نے اچھا کام کیا، ہم نے تعریف کی لیکن جہاں خامی ہوگی اس پر بھی رائے دیں گے۔ ہماری رائے پر وزیر اعلیٰ کہتی ہیں کہ میں انگلی توڑ دوں گی اور بات نہیں کرنے دوں گی۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ سیلاب میں پیپلز پارٹی ہر جگہ پنجاب حکومت کے ساتھ کھڑی رہی۔ چیئرمین بلاول بھٹو، گورنر پنجاب اور دیگر نے ہمارے لوگوں سے ملاقات کی اور امداد کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ قمر زمان کائرہ پیپلز پارٹی

پڑھیں:

بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر

اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم  پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟