حکومت سے ماضی میں جیسے علیحدہ ہوئے وہ ہمیں یاد ہے بھولے نہیں، قمر زمان کائرہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
لاہور:
پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ہم ماضی میں حکومت سے جیسے علیحدہ ہوئے وہ ہمیں یاد ہے بھولے نہیں، ملکی حالات کے پیش نظر ہم خرابی نہیں چاہتے تھے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم نے نیک نیتی سے حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بدقسمتی سے حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی تمام شقوں پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے پاور شیئرنگ نہیں کر رہے بلکہ سپورٹ کر رہے ہیں، ہم نے وزارتیں لیے بغیر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا لیکن اس کا مطلب کوئی بلینک چیک دینا نہیں تھا کہ حکومت جو چاہے کرتی رہے۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سوچ تھی ملک کے مسائل کا حل نکالنا ہے، ہم نے حکومت کو ہر مقام پر سپورٹ کیا، کوئی احسان نہیں کیا، ہم بھی پنجاب والے ہیں لیکن کوئی تجویز دیتے ہیں تو یہ سیخ پا ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے مختلف بحران کا شکار رہا اور ہر حکومت نے بحران سے نمٹنے کی کوشش کی، آج بھی دہشت گردی اور بارڈر کے مسائل سمیت مختلف مشکلات ہیں۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اچانک کچھ دنوں سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہے، اس کا نہ جمہوریت اور نہ سیاست کو فائدہ ہے، جنگی حالات سمیت ہر موقع پر حکومت کو سپورٹ کیا لیکن اس مطلب یہ نہیں مسلم لیگ ن جو کرے گی ہم خاموش رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں سے پیپلز پارٹی اور پنجاب حکومت کے درمیان مکالمہ شروع ہوا، ہم پچھلی حکومت میں بھی ان کے ساتھ تھے اور ہم ماضی کے زخموں کو بھلانا چاہتے ہیں۔ ن لیگ کے دوستوں سے درخواست ہے کہ اس طرح کا لہجہ اور لفظ استعمال نہ کریں جس سے مسائل پیدا ہوں، بلاول بھٹو بہت تحمل سے چیزوں کو لے کر آگے چل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بار خوفناک سیلاب آیا اور بہت نقصان ہوا ہے، پنجاب اور سندھ حکومت نے اچھا کام کیا، ہم نے تعریف کی لیکن جہاں خامی ہوگی اس پر بھی رائے دیں گے۔ ہماری رائے پر وزیر اعلیٰ کہتی ہیں کہ میں انگلی توڑ دوں گی اور بات نہیں کرنے دوں گی۔
پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ سیلاب میں پیپلز پارٹی ہر جگہ پنجاب حکومت کے ساتھ کھڑی رہی۔ چیئرمین بلاول بھٹو، گورنر پنجاب اور دیگر نے ہمارے لوگوں سے ملاقات کی اور امداد کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ قمر زمان کائرہ پیپلز پارٹی
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ