رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ کے دوران مہنگائی حکومتی تخمینے سے زیادہ رہی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسلام آباد:
رواں مالی سال 26-2026 کی پہلی سہ ماہی(جولائی تا ستمبر)کے دوران ملک میں مہنگائی کی اوسط شرح 4.22 فیصد رہی ہے تاہم گزشتہ ماہ(ستمبر )کے دوران سالانہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح 5.6 فیصد تک پہنچ گئی جو وزارت خزانہ کی طرف سے ستمبر میں مہنگائی کی شرح ساڑھے تین سے چار فیصد کے درمیان رہنے کے تخمینے سے زیادہ ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق اگست کے مقابلے میں ستمبر کے دوران مہنگائی کی شرح دو فیصد رہی ہے۔
حکام کے مطابق وزارت خزانہ نے ستمبر کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 3.
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگست 2025 میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح 2.99 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ ستمبر 2024 میں مہنگائی 6.9 فیصد بڑھی تھی۔
ادارہ شماریات نے بتایا کہ ستمبر 2025 کے دوران دیہاتوں میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ شہروں میں مہنگائی میں 1.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ دیہات میں مہنگائی کی سالانہ شرح 5.8 فیصد رہی، ستمبر میں شہروں میں مہنگائی کی سالانہ شرح 5.5 فیصد رہی ہے جبکہ وزارت خزانہ نے ستمبر کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان لگایا تھا۔
وزارت خزانہ نے اپنے ماہانہ اقتصادی جائزے اور ستمبر 2025 کے آؤٹ لک میں کہا تھا کہ 2025 کے جاری سیلاب کی وجہ سے زرعی شعبہ متاثر ہونے کا امکان ہے، سیلاب سے متعلق رکاوٹیں خوراک کی سپلائی چین پر دباؤ ڈال سکتی ہیں جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
مزید بتایا گیا تھا کہ اس کے باعث مہنگائی عارضی طور پر بڑھے گی مگر ستمبر 2025 میں یہ 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان قابو میں رہنے کی توقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصد کے درمیان میں مہنگائی کی فیصد رہی ہے ستمبر کے کے دوران کی شرح
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔