ماہی گیروں کو 3اکتوبر تک گہرے سمندر میں نہ جانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی سے تقریباً310 کلومیٹر جنوب مشرق میں ہوا کا کم دباؤ موجود ہے‘ محکمہ موسمیات نے تیسرا ٹروپیکل سائیکلون الرٹ جاری کر دیا جس کے مطابق ہوا کا کم دباؤ بدستور بھارتی گجرات کے اوپر موجود ہے، کم دباؤ کا علاقہ مغرب کی طرف بڑھنے کے بعد اب شمال مشرقی بحیرہ عرب اور ملحقہ سوراشٹرا ساحل کے قریب ہے اور یہ نظام مغرب کی طرف بڑھنے کا امکان ہے۔ شمال مشرقی بحیرہ عرب میں اگلے12 گھنٹوں کے دوران مزید شدت اختیار کرے گا، ابتدائی طور پر مغرب اور جنوب مغرب کی سمت بڑھے گا۔ سمندری حالات45 سے55 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائوں کے ساتھ بہت ناہموار رہنے کا امکان ہے۔ سندھ کے ماہی گیروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ3 اکتوبر تک گہرے سمندر میں نہ جائیں۔ سائیکلون وارننگ سینٹر، کراچی سسٹم کی نگرانی کر رہا ہے اور اسی کے مطابق اپ ڈیٹ جاری کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔