پی ٹی سی ایل-ٹیلی نار انضمام کی منظوری، سی سی پی نے کڑی شرائط رکھ دیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
پاکستان کی کمپٹیشن کمیشن (CCP) نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) کو ٹیلی نار پاکستان اور اوریئن ٹاورز کے مکمل حصص خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ 18 ماہ کے انتظار کے بعد بدھ کو جاری کیا گیا۔
پیچیدہ معاملہ اور سخت شرائطسی سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ یہ “دنیا کے سب سے پیچیدہ انضمام میں سے ایک ہے اور اس کے ساتھ سخت شرائط رکھی گئی ہیں تاکہ مارکیٹ میں اجارہ داری نہ بنے اور غیر مسابقتی رویوں سے بچا جا سکے۔
سی سی پی نے وضاحت کی کہ پی ٹی سی ایل کو انضمام کی مکمل شراکت داری حاصل ہو گی، لیکن مارکیٹ میں مسابقت قائم رکھنے، غیر امتیازی رسائی یقینی بنانے اور صارفین تک فوائد پہنچانے کے لیے متعدد شرائط عائد کی گئی ہیں۔
نگرانی اور شرائطسی سی پی کے ممبر سلمان امین نے خبردار کیا کہ اگر شرائط کی خلاف ورزی یا غیر مسابقتی رویہ دیکھا گیا تو انضمام کو منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ پی ٹی سی ایل اور مرجر کمپنی کو الگ اکاؤنٹس رکھنا ہوں گے تاکہ کراس سبسڈی نہ ہو۔
چیئرمین سدھو نے کہا کہ سی سی پی اس معاملے پر اگلے 5 سال تک نظر رکھے گا اور اس دوران دیگر ٹیلی کام کمپنیاں مارکیٹ کے اصولوں کے عادی ہو جائیں گی۔
کلیدی شرائطعلیحدہ انتظام اور گورننس: پی ٹی سی ایل اور مرجر کمپنی کے الگ بورڈ اور مینجمنٹ ہونی چاہیے۔
قیادت کے معیارات: سی سی او اور سینیئر مینجمنٹ کو سخت معیار اور ایمانداری کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔
تھرڈ پارٹی ریویوئر: 5 سال تک معاملات کی نگرانی اور سہ ماہی رپورٹ سی سی پی کو پیش کرنا۔
متعلقہ پارٹی کے لین دین اور کراس سبسڈی: صرف مسابقتی اور برابر سطح پر ہو سکتی ہے۔
انٹرکنیکشن اور انفراسٹرکچر شیئرنگ: تمام آپریٹرز کو غیر امتیازی رسائی فراہم کی جائے۔
قیمتوں میں امتیاز پر پابندی: پی ٹی سی کو اپنی ہول سیل قیمتیں PTA سے منظور کروانی ہوں گی، پرڈیٹری ریٹیل قیمتیں نہیں لگائی جا سکتیں۔
صارفین کا تحفظ اور جدت: سروس معیار اور جدت کے اصولوں پر عمل لازمی۔
افادیت کا ثبوت: پی ٹی سی ایل کو دکھانا ہوگا کہ فوائد صارفین تک پہنچ رہے ہیں۔
بین الاقوامی اور ملکی ردعملٹیلی نار ایشیا نے کہا ہے کہ یہ لین دین پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر کو مضبوط کرے گا۔ ٹیلی نار پاکستان اپنے 43 ملین صارفین کو معمول کے مطابق خدمات فراہم کرتی رہے گی۔
جاز کے سی ای او عامر ابراہیم کے ماطبق مرجر ٹیلی کام صنعت کو پائیدار بنا سکتا ہے اور اب سب سے اہم کام ہے کہ اسپیکٹرم کا وقت پر اجرا ہو تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی میں تیزی آئے اور عوام کو سستی اور تیز کنیکٹیویٹی میسر ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی سی ایل ٹیلی نار سی سی پی
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند