پاکستان کا اسرائیلی جارحیت پر سخت ردعمل، صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان نے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے، جس میں انسانی حقوق کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق گلوبل صمود فلوٹیلا کا مقصد محصور غزہ کے عوام تک بنیادی انسانی امداد پہنچانا تھا۔ اس قافلے میں 40 سے زائد کشتیاں شامل تھیں، جن پر تقریباً 500 بین الاقوامی کارکن سوار تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ انسانی ہمدردی پر مبنی اس مہم کو روکنا اور امداد لے جانے والوں کو گرفتار کرنا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی بھی سراسر توہین ہے۔
پاکستان نے اس اقدام کو اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں اور غزہ کے غیر قانونی محاصرے کا تسلسل قرار دیا، جس کے باعث 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینی شدید انسانی بحران سے دوچار ہیں۔
پاکستان نے واضح کیا کہ انسانی امداد کو روکنے کا عمل چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، کیونکہ بطور قابض قوت اس پر لازم ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ اس موقع پر پاکستان نے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی، محاصرہ ختم کرنے اور انسانی امداد کی بلا تعطل ترسیل پر زور دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فلوٹیلا پر سوار تمام کارکنوں کو فوراً رہا کیا جائے اور عالمی برادری اسرائیل کو اس کے مسلسل غیر قانونی اقدامات پر جواب دہ بنائے۔
پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی عوام سے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ان کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد، خودمختار ریاست فلسطین کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان نے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔