وزیراعظم شہباز شریف کی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’بزدلانہ حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔
وزیرِاعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اسرائیلی فورسز کی جانب سے 40 کشتیوں پر مشتمل صمود غزہ فلوٹیلا پر حملے کی سخت مذمت کرتا ہے، جو 44 ممالک سے تعلق رکھنے والے 450 سے زائد انسانی حقوق کے کارکنان اور امدادی رضا کار لے جا رہا تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ان کارکنوں کا ’’جرم‘‘ صرف یہ تھا کہ وہ غزہ کے مظلوم فلسطینی عوام کے لیے امداد لے کر جا رہے تھے۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کو ’’وحشیانہ عمل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بربریت کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
Pakistan strongly condemns the dastardly attack by Israeli forces on the 40 vessel Samud Gaza flotilla, carrying over 450 humanitarian workers from 44 countries.
We hope and pray for the safety of all those who have been illegally apprehended by Israeli forces and call for their… — Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 1, 2025
وزیرِاعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کو بنیادی انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’امن کو ایک موقع دیا جانا چاہیے اور امداد ہر حال میں ضرورت مندوں تک پہنچنی چاہیے‘‘۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں صمود فلوٹیلا کو غزہ پہنچنے سے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس پر دنیا بھر میں مذمتی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ فلوٹیلا میں شامل کارکنان کا کہنا تھا کہ وہ خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان غزہ کے جنگ زدہ عوام تک پہنچانے کے مشن پر نکلے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔