گاڑی خریدنا ہوا مشکل، نئی سخت شرائط عائد
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے حکومت نے یکم اکتوبر 2025 سے امپورٹڈ گاڑیوں پر سخت شرائط عائد کر دی ہیں۔
وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق گاڑیوں کے سیفٹی اور کوالٹی اسٹینڈرڈز کو 17 سے بڑھا کر 62 کر دیا گیا ہے، جو فوری طور پر درآمدی گاڑیوں پر نافذ ہوں گے جبکہ مقامی تیار شدہ گاڑیوں پر یہ قوانین مرحلہ وار لاگو کیے جائیں گے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ چھوٹی، کمرشل اور بڑی ہر قسم کی درآمدی گاڑی کو ان نئے 62 معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ صرف کمرشل امپورٹرز ہی گاڑیاں درآمد کر سکیں گے اور ہر گاڑی کے لیے انٹرنیشنل سیفٹی، معیار اور ماحول دوست سرٹیفکیٹس لازمی ہوں گے۔ جاپان سے درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے جاپان آٹو میٹو اپریزل انسٹیٹیوٹ اور جاپان ایکسپورٹ وہیکل انسپیکشن سینٹر کے سرٹیفکیٹ درکار ہوں گے، جب کہ کوریا اور چین سے گاڑی لانے والوں کو متعلقہ لیبارٹریز اور اداروں کے سرٹیفکیٹس پیش کرنے ہوں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کسی گاڑی کا مائلیج ٹیمپرڈ ہو، شیشوں پر کریک ہو، لائٹس خراب ہوں یا حادثے میں بری طرح متاثر ہو تو اس کی درآمد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح انجن اور چیسز نمبر کی غیر موجودگی یا ایئر بیگز کی ویری فکیشن نہ ہونے کی صورت میں بھی گاڑی پاکستان نہیں لائی جا سکے گی۔ مزید یہ کہ پوسٹ شپمنٹ انسپیکشن لازمی ہوگا جو تھرڈ پارٹی کے ذریعے کیا جائے گا اور اس کے اخراجات امپورٹر خود برداشت کرے گا۔
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے الگ شرائط رکھی گئی ہیں جن کے تحت بیٹری کی لائف، پرفارمنس، پائیداری اور چارجنگ اسٹینڈرڈز کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ بیٹری ری سائیکلنگ کے تقاضے پورے کرنا بھی ضروری ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی گاڑی سے ماحولیاتی آلودگی پھیلنے کا خطرہ ہوا یا ٹائر ناقص حالت میں پائے گئے تو ایسی گاڑی کی درآمد مکمل طور پر ممنوع ہوگی۔
یوں حکومت نے گاڑیوں کی سیفٹی، معیار اور ماحول دوست تقاضوں پر سخت اقدامات اٹھا کر نہ صرف صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے بلکہ عالمی معیار کے مطابق آٹو موبائل مارکیٹ کو بھی ڈھالنے کا عندیہ دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے گیا ہے ہوں گے
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔