خیبر پختونخوا پولیس کے شہداء پیکیج میں بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
ترجمان وزیراعلیٰ فراز مغل کے مطابق کانسٹیبل تا انسپکٹر شہداء کے لواحقین کو 1 کروڑ 10 لاکھ روپے نقد دیے جائیں گے، کانسٹیبل و ہیڈ کانسٹیبل کے لواحقین کو 5 مرلہ پلاٹ جبکہ اے ایس آئی، ایس آئی اور انسپکٹر کو 7 مرلہ پلاٹ ملے گا اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے احکامات پر پولیس شہداء پیکیج 2025ء میں بڑا اضافہ کردیا گیا۔ ترجمان وزیراعلیٰ فراز مغل کے مطابق کانسٹیبل تا انسپکٹر شہداء کے لواحقین کو 1 کروڑ 10 لاکھ روپے نقد دیے جائیں گے، کانسٹیبل و ہیڈ کانسٹیبل کے لواحقین کو 5 مرلہ پلاٹ جبکہ اے ایس آئی، ایس آئی اور انسپکٹر کو 7 مرلہ پلاٹ ملے گا، ڈی ایس پی و اے ایس پی شہداء کے لواحقین کو 1 کروڑ 60 لاکھ روپے اور 10 مرلہ پلاٹ دیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق ایس پی، ایس ایس پی، ڈی آئی جی، اے آئی جی اور آئی جی کے لواحقین کو 2 کروڑ 10 لاکھ روپے اور ایک کنال پلاٹ ملے گا۔
ترجمان کے مطابق پولیس شہداء فنڈز 2017ء میں 1 کروڑ روپے تھے، 2025ء میں بڑھا کر 2 کروڑ 10 لاکھ روپے تک کر دیے گئے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے احکامات پر شہداء کے لواحقین کو پلاٹ اور کیش پیکیج دیا جا رہا ہے، تقریب میں پانچ شہداء کے لواحقین کو پلاٹ الاٹمنٹ لیٹرز جاری کردیے گئے ہیں، شہداء کے اہل خانہ کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی پیکیج دیا گیا، تقریب میں اعلیٰ حکام اور شہداء کے لواحقین نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کروڑ 10 لاکھ روپے مرلہ پلاٹ کے مطابق ایس آئی ایس پی
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔