سندھ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے نافذ، سخت کارروائی کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے صوبے بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانوں اور سخت کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کو نہ صرف بھاری مالی جرمانے بلکہ ڈرائیونگ لائسنس پر پوائنٹس کٹنے اور جیل کی سزا کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اہم خلاف ورزیاں اور جرمانے درج ذیل ہیں:
ون ویلنگ یا کار ڈرفٹنگ: 25,000 سے 50,000 روپے جرمانہ اور 8 پوائنٹس کی کٹوتی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس اِن ایکشن، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر532 موٹر سائیکلیں اور 60 گاڑیاں بند
ہیلمٹ کے بغیر ڈرائیونگ: 5,000 روپے جرمانہ، پچھلی سیٹ پر بیٹھنے والے مسافر کے لیے بھی ہیلمٹ لازم، خلاف ورزی پر 5,000 روپے جرمانہ۔
بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے ڈرائیونگ: 20,000 سے 50,000 روپے جرمانہ اور 6 پوائنٹس کی کٹوتی۔
بغیر رجسٹریشن کے گاڑی چلانا: 10,000 سے 100,000 روپے جرمانہ اور 8 پوائنٹس کی کٹوتی۔
کم عمر (نابالغ) ڈرائیورز: 25,000 سے 100,000 روپے جرمانہ۔
غلط لین، یو ٹرن یا خاموش زون میں ہارن بجانا: 5,000 سے 20,000 روپے جرمانہ۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں ڈرائیونگ لائسنس کے حصول میں 500 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، ٹریفک پولیس
پولیس کے اشارے پر نہ رکنا یا لائسنس دکھانے سے انکار: 10,000 سے 20,000 روپے جرمانہ۔
دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں: 5,000 سے 20,000 روپے جرمانہ۔
مقررہ وزن سے زیادہ لوڈنگ، ناقص سی این جی کٹ یا بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانا: 25,000 سے 50,000 روپے جرمانہ اور قید کی سزا بھی ممکن۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ قوانین کی پاسداری کریں، ورنہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں ڈرائیونگ لائسنس معطل یا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھاری جرمانے نافذ، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سخت کارروائی کا عندیہ سندھ محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھاری جرمانے نافذ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سخت کارروائی کا عندیہ محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی 000 روپے جرمانہ اور ڈرائیونگ لائسنس
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔