این ایل سی کا جنوبی وزیرستان کے عوام کیلیے تحفہ، انگور اڈہ ٹرمینل ریکارڈ مدت میں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
این ایل سی نے جنوبی وزیرستان کے عوام کے لیے ایک اور تحفہ دیتے ہوئے انگور اڈہ ٹرمینل 30 دن کی ریکارڈ مدت میں مکمل کرلیا۔
نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کی جنوبی وزیرستان کے سرحدی مقام انگور اڈہ پر بارڈر ٹرمینل کی تعمیر مکمل کی گئی ہے۔
جنوبی وزیرستان کے مقامی قبائل کے دیرینہ مطالبے پر انگور اڈہ سرحدی ٹرمینل حقیقت بن گیا، جدید انفرا اسٹرکچر اور ڈیجیٹل نظام کے ساتھ انگور اڈہ بارڈر ٹرمینل فعال کر دیا گیا۔
سخت مشکلات اور بنیادی انفرا اسٹرکچر نہ ہونے کے باوجود این ایل سی نے ٹرمینل 30 دن میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
این ایل سی نے مطلوبہ انفرا اسٹرکچر اور ٹرمینل کا تعمیراتی کام مقامی ہنرمندوں کے توسط سے انجام دیا۔ ٹرمینل میں کسٹمز، ایف آئی اے، پلانٹ پروٹیکشن اور دیگر محکموں کے لیے دفاتر اور رہائش کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
انگور اڈہ ٹرمینل مقامی قبائل کے لیے مضبوط اقتصادی بنیاد فراہم کرے گا، مقامی پیداوار اب مختصر اور آسان راستوں سے افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک میں برآمد کی جاسکے گی۔
انگور اڈہ بارڈر ٹرمینل مقامی معشیت کو مستحکم کرتے ہوئے خطے کی سماجی اور اقتصادی ترقی یقینی بنائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنوبی وزیرستان کے ایل سی انگور اڈہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔