بولان، ایم ڈبلیو ایم رہنماؤں کی شہدائے مسجد چھلگری کے مزارات پر حاضری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اس موقع پر علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم سانحہ چھلگری کے پہلے دن سے لیکر آج تک وارثان شہداء کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ شہداء کی دسویں برسی کے موقع پر مزار شہداء چھلگری میں "عظمت شہداء کانفرنس" اور مجلسِ عزاء منعقد کی جائیگی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت علامہ مقصود علی ڈومکی، صوبائی صدر علامہ سید ظفر عباس شمسی اور علامہ سہیل اکبر شیرازی نے ضلع کچھی بولان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان اور عوام سے ملاقات کی اور بہشت زہرا چھلگری میں شہدائے مسجد چھلگری 8 محرم بمطابق 22 اکتوبر 2015ء کے مزارات پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے ضلعی رہنما پرویز چھلگری نذیر حسین چھلگری، محمد سلیمان چھلگری سمیت دیگر وارثانِ شہداء بھی ان کے ہمراہ تھے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ اسرائیل غاصب ریاست ہے جس نے ہمیشہ ظلم، بربریت، قبضہ اور قتل و غارت گری کو اپنی پالیسی بنایا ہے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ بدترین دہشت گردی ہے۔ یہ ناجائز ریاست سرطان اور کینسر کا پھوڑا ہے جس کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ اسرائیل امن عالم کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت میں دنیا کے 45 ممالک کے باضمیر اور بہادر انسانوں پر مشتمل قافلہ "گلوبل صمود فلوٹیلا" دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کی تائید و حمایت کے ساتھ نکلا ہے۔ اس قافلے کے اراکین کی گرفتاری اور غزہ کے قحط زدہ شہریوں تک امداد پہنچانے میں رکاوٹ سنگین جرم ہے جس کا ارتکاب اسرائیل کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہدائے چھلگری نے اللہ کے گھر مسجد میں حالت نماز میں جام شہادت نوش کرکے اپنے آقا و مولا علی علیہ السلام کی سیرت پر عمل کیا۔ ہم نے عشق آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہر دور میں قربانیاں دیں۔ ایم ڈبلیو ایم سانحہ چھلگری کے پہلے دن سے لے کر آج تک وارثان شہداء کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اس موقع پر وارثان شہداء نے اعلان کیا کہ شہدائے چھلگری بلوچستان کی دسویں برسی کے موقع پر مزار شہداء چھلگری میں "عظمت شہداء کانفرنس" اور مجلسِ عزاء منعقد کی جائے گی۔ مزید برآں، تنظیمی ذمہ داران نے چھلگری بہشت زہراء کے علاقے میں پینے کے پانی کی شدید قلت سے آگاہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم ڈبلیو ایم کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں