کراچی، فلسطین فاؤنڈیشن کے تحت صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ، ویڈیو
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: احتجاجی مظاہرے سے اسد اللہ بھٹو، ڈاکٹر معراج الہدیٰ، میجر (ر) قمر عباس، ارشد نقوی، علامہ عقیل انجم قادری، علامہ قاضی احمد نورانی، پیر ازہر ہمدانی، محمد حسین محنتی، علامہ صادق جعفری، علامہ مبشر حسن، فیصل بلوچ، یونس بونیری، ارم بٹ، حمزہ نقوی، پاسٹر ایمانوئیل، حسیب جمالی، جمشید حسین اور ڈاکٹر صابر ابو مریم و دیگر نے خطاب کیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید ظفر جعفری
فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کے سامنے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سینکڑوں مرد و خواتین نے شرکت کی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر صمود فلوٹیلا کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ احتجاجی مظاہرے سے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین سمیت سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے نمائندوں بشمول ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹو، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، سابق رکن سندھ اسمبلی میجر (ر) قمر عباس، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ارشد نقوی، جمعت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ عقیل انجم قادری، علامہ قاضی احمد نورانی، پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما پیر ازہر علی شاہ ہمدانی، سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی، مجلس وحدت مسلمین کراچی کے صدر علامہ صادق جعفری، علامہ مبشر حسن، مرکزی مسلم لیگ کے رہنما فیصل بلوچ، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما یونس بونیری، پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ارم بٹ، پاکستان نظریاتی پارٹی کے حمزہ نقوی، مسیحی رہنما پاسٹر ایمانوئیل، وکلاء رہنما حسیب جمالی، ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے جمشید حسین اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ ٹرمپ پلان کو مسترد کرتے ہیں اور فلسطین کا مستقل فلسطینیوں کو طے کرنا چاہئیے، امریکا کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ امن کے نام پر فلسطین پر اسرائیلی قبضہ کو مسلط کرے، فلسطین ہمیشہ فلسطینوں کا تھا اور ہے، اسرائیل ایک غاصب اور ناجائز ریاست ہے۔ رہنماؤں نے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ دنیا بھر کی حکومتوں اور خاص طور پر اسلامی و عرب حکومتوں کو چاہئیے کہ غزہ کے دفاع کیلئے مشترکہ حکمت عملی کا تعین کریں اور غزہ کا محاصرہ توڑنے کیلئے عملی اقدمات کریں۔ مقررین نے امریکی صدر ٹرمپ کے امن پلان کو فلسطین دشمن پلان قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پلان کی حمایت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیان کو واپس لیں۔ مقررین نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ فلسطین کاز کی حمایت میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ کے مؤقف کی تجدید کی جائے۔ اس موقع پر شرکاء نے امریکا مردہ باد، اسرائیل نامنظور اور فلسطین کی آزادی کے نعرے لگائے۔ مظاہرے میں عبدالوحید یونس، یاور عباس، ابراہیم چترالی، اعجاز فضل، مفتی محمد سعید، فروا حسن، نسرین حسین، جبین عالم، فرید میمن، قاضی زاہد حسین سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی پاکستان کے کے رہنما
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔