فلسطین پر صہیونیوں کا ناپاک قبضہ قابل قبول نہیں، علامہ شبیر حسن میثمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رہنما ایس یو سی نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کی جانب سے 21 نکاتی غیر منصفانہ امن منصوبے کی حمایت بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رح کے پاکستان کے لیے طے کردہ بنیادی اصولوں اور پاکستانی عوام کے جذبات و احسات اور خواہشات کے سراسر منافی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے امدادی کاروان پر اسرائیلی فوج کے دہشتگردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین امت مسلمہ کا قبلہ اول ہے جس پر صہیونیوں کے ناپاک اور ناجائز قبضے کو کبھی قبول نہیں کیا جائے گا، غزہ کی مظلوم فلسطینی عوام نے قبلہ اول کے تحفظ اور مسلم فلسطینی ریاست کی بقاء کے لیے جو قربانیاں دیں وہ تاریخ مقاومت و حق خوداردیت کی تحریکوں کا سنہری باب ہے اور یہ قربانیاں فلسطین کی بقاء میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کے امدادی کاروان پر اسرائیلی حملے کے خلاف نماز جمعہ کے بعد قرآن سینٹر کے مقام پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی جانب سے کسی بھی دو ریاستی منصوبے کی حمایت دراصل مسلہ فلسطین اور غزہ کے مسلمانوں کے قربانیوں کو رائیگاں کرنے کے مترادف ہوگا۔
علامہ شبیر میثمی کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں کہ جب غزہ کی سرزمین تاریخی نسل کشی، بربریت اور قتل و غارت گری کے باعث قحط سالی سے دوچار ہے، دنیا بھر کے آزاد انسان اور حکومتی نمائندے اسرائیلی مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، اہل مغرب غیر مسلم ہوتے ہوئے یورپ اور امریکہ کے گلی کوچوں سے لے کر مرکزی شاہراہوں پر غزہ کی مظلوم عوام کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں اور امریکہ اور اسرائیل پر دباؤ ڈال رہے ہیں، جنگ بندی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں، ایسے وقت میں ہمارے حکمرانوں کی جانب سے 21 نکاتی غیر منصفانہ امن منصوبے کی حمایت بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رح کے پاکستان کے لیے طے کردہ بنیادی اصولوں اور پاکستانی عوام کے جذبات و احسات اور خواہشات کے سراسر منافی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک