ملتان میں امریکہ مخالف مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا سازشی منصوبہ مظلوم فلسطینیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ہے، اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ امریکہ اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے نتیجے میں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے لیے جانے والے صمود فلوٹیلا کو روک دیا ہے۔  اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کی ہدایت پر جے یو آئی ملتان کے زیراہتمام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی فارمولے کو مسترد کیے جانے کے حوالے سے یوم احتجاج منایا گیا، مساجد، مدارس میں نماز جمعہ کے اجتماعات کے موقع پر مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی گئی اور مذمتی قراردادیں پیش کی گئی۔ ملتان میں جے یو آئی ملتان کے زیراہتمام جمعہ کے روز مدرسہ جلال باقری کے سامنے احتجاج کیا گیا، احتجاجی مظاہرے کی قیادت جے یو آئی کے سٹی امیر قاری محمد یاسین، جنرل سیکریٹری مولانا محمد یوسف مدنی، ضلعی سرپرست حافظ محمد عمر شیخ، ضلعی سیکریٹری اطلاعات رانا محمد سعید، خواجہ زاہد حبیب، مولانا طیب فرید، خواجہ عبدالمالک، جے ٹی آئی کے صدر معین الدین سمیت دیگر نے کی۔ اس موقع پر امریکی صدر کے 20 نکاتی فارمولے کی شدید مذمت کی گئی اور مظلوم فلسطینیوں کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔

 اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20نکاتی فارمولے کو مکمل طور پر مسترد کر دیں کیونکہ امریکی صدر کا سازشی منصوبہ مظلوم فلسطینیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ہے، اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو گی کہ امریکہ اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے نتیجے میں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے لیے جانے والے صمود فلوٹیلا بحری بیڑے کو اسرائیلی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے صمود فلوٹیلا بحری بیڑے کو قابو کر لیا اور بحری بیڑے میں شامل ساڑھے چار سو افراد کو گرفتار کر لیا حالانکہ بحری بیڑے میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے خشک راشن ادویات خیمے وغیرہ تھے۔ اسرائیل نے صمود فلوٹیلا پر حملہ کر کے اپنا گھناونا اور شیطانی چہرہ پوری دنیا کو دکھا دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مظلوم فلسطینیوں کے کو مکمل طور پر صمود فلوٹیلا امریکی صدر بحری بیڑے جے یو آئی کی گئی

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل