حکمران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20نکاتی فارمولے کو مکمل طور پر مسترد کر دیں، جے یو آئی ملتان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
ملتان میں امریکہ مخالف مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا سازشی منصوبہ مظلوم فلسطینیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ہے، اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ امریکہ اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے نتیجے میں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے لیے جانے والے صمود فلوٹیلا کو روک دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کی ہدایت پر جے یو آئی ملتان کے زیراہتمام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی فارمولے کو مسترد کیے جانے کے حوالے سے یوم احتجاج منایا گیا، مساجد، مدارس میں نماز جمعہ کے اجتماعات کے موقع پر مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی گئی اور مذمتی قراردادیں پیش کی گئی۔ ملتان میں جے یو آئی ملتان کے زیراہتمام جمعہ کے روز مدرسہ جلال باقری کے سامنے احتجاج کیا گیا، احتجاجی مظاہرے کی قیادت جے یو آئی کے سٹی امیر قاری محمد یاسین، جنرل سیکریٹری مولانا محمد یوسف مدنی، ضلعی سرپرست حافظ محمد عمر شیخ، ضلعی سیکریٹری اطلاعات رانا محمد سعید، خواجہ زاہد حبیب، مولانا طیب فرید، خواجہ عبدالمالک، جے ٹی آئی کے صدر معین الدین سمیت دیگر نے کی۔ اس موقع پر امریکی صدر کے 20 نکاتی فارمولے کی شدید مذمت کی گئی اور مظلوم فلسطینیوں کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔
اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20نکاتی فارمولے کو مکمل طور پر مسترد کر دیں کیونکہ امریکی صدر کا سازشی منصوبہ مظلوم فلسطینیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ہے، اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو گی کہ امریکہ اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے نتیجے میں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے لیے جانے والے صمود فلوٹیلا بحری بیڑے کو اسرائیلی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے صمود فلوٹیلا بحری بیڑے کو قابو کر لیا اور بحری بیڑے میں شامل ساڑھے چار سو افراد کو گرفتار کر لیا حالانکہ بحری بیڑے میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے خشک راشن ادویات خیمے وغیرہ تھے۔ اسرائیل نے صمود فلوٹیلا پر حملہ کر کے اپنا گھناونا اور شیطانی چہرہ پوری دنیا کو دکھا دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مظلوم فلسطینیوں کے کو مکمل طور پر صمود فلوٹیلا امریکی صدر بحری بیڑے جے یو آئی کی گئی
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔