غیرت کے نام پر 17 سالہ سدرہ بی بی قتل کیس: قتل کا فتویٰ دینے والے جرگہ سربراہ کی ضمانت مسترد
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی کی حدود میں غیرت کے نام پر 17 سالہ سدرہ بی بی قتل کیس میں قتل کا فتویٰ دینے والے جرگہ سربراہ سیف الرحمان خان کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی۔
اس کے علاوہ عدالت نے سیکریٹری قبرستان راشد محمود کی ضمانت درخواست بھی مسترد کردی، عدالت نے کہا کہ مسلم لیگی راہنما سیف الرحمان مرکزی ملزم نے قتل کا فتوی دیا، قتل کا فتویٰ دینا غیر قانونی، غیر آئینی اور جرم ہے۔
عدالت نے کہا کہ ملزم سیکریٹری قبرستان نے تدفین کے ریکارڈ میں ٹمپرنگ کی، دونوں بادی النظر میں قتل کے براہ راست زمہ دار ملزمان ہیں۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فرحت جبیں نے فیصلہ سنایا، تھانہ پیرودھائی پولیس نے 21 جولائی کو مقدمہ درج کیا اور ڈیڈ باڈی برآمد کی، تمام ملزمان کے خلاف چالان عدالت پیش کر دیا گیا۔
عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کے لئے تمام ملزمان کی اڈیالہ جیل سے طلبی کرلی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :