عدالت نے ڈکی بھائی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
سیشن کورٹ لاہور معروف یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کے جوا ایپ کیس میں سرکاری وکیل نے دلائل پیش کردیئے۔ عدالت نے ڈکی بھائی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق لاہور کی سیشن کورٹ میں یوٹیوبر ڈکی بھائی کے خلاف جوئے کی ایپ کی تشہیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم اس ایپ کے برانڈ ایمبیسڈر تھے اور ان کے ساتھی بھی اس پروموشن میں شامل تھے، جنہیں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ ایک اور شریک ملزم سبحان شریف کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
سرکاری وکیل کی جانب سے دلائل کے دوران مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم اور ان کے ساتھیوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ کیس میں کوئی متاثرہ شخص نہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ متعدد افراد نے اس ایپ کے ذریعے مالی نقصان اٹھایا۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزم سے دوران تفتیش ریکوری کی گئی تاہم جوئے کی ایپ سے حاصل رقم پر تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔
عدالت میں پیش کردہ ریکارڈ کے مطابق پی ٹی اے اور ایس ای سی پی نے ان ایپس کو ریگولرائز نہیں کیا تھا جبکہ بائیونیمو کی ویب سائٹ پاکستان میں بین ہے۔ سرکاری وکیل نے مؤقف اپنایا کہ جوئے کی ایپس کے ذریعے کمائی گئی رقوم بینکوں میں منتقل ہوئیں، جن کی دستاویزات اور اسٹیٹمنٹس بھی موجود ہیں۔
وکیل کے مطابق ڈکی بھائی کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، کیونکہ یہ ایپس نوجوانوں کو جوئے کی طرف راغب کر رہی تھیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کی ضمانت خارج کی جائے کیونکہ ریمانڈ کے دوران اہم شواہد برآمد ہوئے ہیں۔
ڈکی بھائی کے وکیل اور سرکاری وکیل کی جانب سے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ڈکی بھائی کی بعد ازگرفتاری درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سرکاری وکیل نے ڈکی بھائی کے جوئے کی کہ ملزم
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔