حقیقی امن صرف انصاف کے ذریعے ہی قائم کیا جا سکتا ہے، میر واعظ
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق میر واعظ نے بڈگام میں انجمنِ شرعی شیعان کے زیراہتمام منعقدہ سیرت کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے لداخ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں جہاں تصادم ہو، وہاں حقیقی امن صرف انصاف کے ذریعے ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ نے بڈگام میں انجمنِ شرعی شیعان کے زیراہتمام منعقدہ سیرت کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے لداخ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بھارتی قابض انتظامیہ لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے کے بجائے ان پر ظلم و تشدد سے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ امن زبردستی قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن اسی وقت قائم ہوتا ہے جب عوام سے کیے گئے وعدے پورے ہوں اور محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کو فروغ دیا جائے۔ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے میرواعظ نے خود پر عائد مسلسل پابندیوں پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ قابض انتظامیہ نے بلاجواز طور پر انہیں مسلسل گھر میں نظربند کر رکھا ہے اور انہیں کشمیری قوم کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی و سماجی تنظیموں پر پابندی، املاک کی ضبطگی اور حریت رہنمائوں کے موقف کو عوام کے سامنے لانے سے روکنے کیلئے میڈیا پر قدغن انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ مسائل کے حل کیلئے عزت و وقار کے ساتھ پرامن طور پر بات چیت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو اپنی کشمیر پالیسی پر ازسرِنو غور کرنا چاہیے۔ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ پراثر اور تعمیری مذاکرات ہی پائیدار امن کے قیام کا بہتر ین راستہ ہے۔
اوقاف کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر ایک مذہبی معاملہ ہے اور کشمیری قوم کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے دینی اداروں کا انتظام خود مختاری اور وقار کے ساتھ کریں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی معاملات میں مداخلت اور دخل اندازی فوری طور پر ختم ہونی چاہیے۔ میر واعظ نے اس موقع پر مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دل سے چاہتے ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی ہو اور فلسطینی عوام کی نسل کشی کاسلسلہ ختم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کرتے ہوئے کا اظہار میر واعظ واعظ نے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔