اپنے صوبوں سے بے خبر لوگ پنجاب پر تنقید کرنے آجاتے ہیں: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے مزمل اسلم کے پنجاب مخالف بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے صوبوں کی خبر نہ رکھنے والے لوگ پنجاب پر تنقید کرنے آ جاتے ہیں۔ خیبر پی کے میں دہشت گردی، کرپشن، لاقانونیت اور بیڈ گورننس روزانہ دروازے پر دستک دے رہی ہے، مگر وہاں کوئی بات کرنے والا نہیں۔ کے پی کابینہ کے دو وزراء نے وزیراعلیٰ کی کرپشن کہانیاں سنا کر استعفے دیے، لیکن اس کے باوجود وہ پنجاب پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ بونیر، صوابی اور سوات میں سیلاب سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے، کیا کے پی حکومت نے ان سب کو امداد فراہم کردی؟۔ کے پی کا وزیراعلیٰ ہر مہینے وفاق کو فنڈز کے لیے خطوط لکھتا ہے، جبکہ ان کے نمائندے پنجاب پر بے بنیاد تنقید میں مصروف ہیں۔ شیخ چلی کی طرح شیخیاں بکھیرنے سے حقائق نہیں چھپ سکتے۔ مریم نواز سیلاب متاثرین کے نام پر نہ قرض مانگیں گی نہ امداد۔ جن کو چندے اور امداد کھانے کی عادت پڑی ہو، وہ دوسروں کو بھی اپنی طرح سمجھتے ہیں۔ مریم نواز ایک خوددار لیڈر کی بیٹی ہیں، وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گی۔ پنجاب میں سیلاب سے دس یا بیس نہیں بلکہ 45 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، اس قدر بڑے پیمانے پر سروے ایک ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ مریم نواز بغیر کسی حکومتی وسائل کے خود سیلاب سے متاثرہ ہر فرد تک پہنچیں گی اور ان کی عملی مدد کریں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟