— فائل فوٹو

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے شاندار کامیاب سفر کے سلسلے میں متعدد آن لائن پورٹلز کا آغاز کردیا ہے، جن سے پی ایم اینڈ ڈی سی کی کارکردگی، شفافیت اور رسائی نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔

مئی 2024 سے شروع ہونے والے اس ڈیجیٹلائزیشن منصوبے نے کونسل کے کام کرنے کے ڈھانچے کو یکسر بدل دیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان بھر کے میڈیکل و ڈینٹل پروفیشنلز، اداروں اور طلباء کو خدمات کی فراہمی میں عملی بہتری آئی ہے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی نے نئے پورٹلز اور ای سرٹیفیکیشن کے ذریعے درخواستوں کو تیز رفتاری سے نمٹاتے ہوئے شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ کیا اور التواء ختم کیے۔ ہزاروں درخواستیں جیسے رجسٹریشن، پوسٹ گریجویٹ کوالیفیکیشنز اور فیکلٹی ویری فیکیشن ریکارڈ بروقت، شفافیت اور مؤثر نگرانی کے ساتھ نمٹائی گئیں۔ 

اب درخواست دہندگان اپنی درخواستوں کو ریئل ٹائم میں ٹریک کر سکتے ہیں، اس اقدام سے غیر ضروری رکاوٹیں ختم ہوئیں۔ نئے پورٹلز نے ذاتی حاضری کی ضرورت کم کر دی، جس سے تمام اسٹیک ہولڈرز کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی خدمات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور محفوظ ڈیجیٹل ادائیگی کے آپشن نے ان کا وقت اور محنت بچا لی ہے۔

پورٹلز کے آغاز کے بعد درخواستوں کو صرف 3 تا 4 ورکنگ ڈیز میں بروقت اور مؤثر طریقے سے نمٹایا جا رہا ہے۔ رجسٹریشن کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی کل تعداد 175,738 ہے، جن میں سے 173,373 کو بروقت مکمل اور جاری کر دیا گیا۔ 

ٹیچنگ ایکسپیرینس سرٹیفکیٹس کے اجرا میں بھی نمایاں تیزی آئی ہے۔ 7,462 درخواستوں میں سے 7,438 کامیابی سے مکمل کی گئیں۔ اسی طرح، فیکلٹی رجسٹریشن پورٹل کے آغاز کے بعد 13 ہزار 884 درخواستیں موصول ہوئیں اور ان میں سے 13 ہزار 483 نمٹائی جا چکی ہیں۔

مزید یہ کہ پی ایم اینڈ ڈی سی نے لاہور ریجنل آفس (شیخ زاید میڈیکل کمپلیکس) اور کراچی میں اپنا لائسنسنگ سسٹم باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے، جو میڈیکل و ڈینٹل گریجویٹس اور پریکٹیشنرز کے لیے ایک بڑا سہولت کا قدم ہے۔ اس اقدام سے پنجاب اور سندھ کے پریکٹیشنرز کو معمولی خدمات کے لیے اسلام آباد سفر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آگئی۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے صدر پروفیسر رضوان تاج نے کہا کہ یہ اعداد و شمار کونسل کی محنت اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے وسیع وژن کو ظاہر کرتے ہیں، جس سے پاکستان بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل پروفیشنلز تیز، زیادہ قابلِ اعتماد اور شفاف ریگولیٹری عمل سے مستفید ہو رہے ہیں۔

علاقائی دفاتر کی ڈیجیٹلائزیشن کے مراحل میں فیز I لاہور میں، فیز II کراچی میں مکمل ہو چکے ہیں اور جلد ہی فیز III پشاور (خیبرپختونخوا) اور فیز IV بلوچستان میں شروع کیا جائے گا۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم و پریکٹس کے اعلیٰ معیارات برقرار رکھنے کی مجاز ریگولیٹری اتھارٹی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پی ایم اینڈ ڈی سی

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر توانائی کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی ہدایت
  • وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کا حکم
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی