WE News:
2026-07-24@13:42:30 GMT

امپورٹ میں 11 ارب ڈالر کے تجارتی فرق کا معاملہ

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

یہ بات اب سامنے آ چکی ہے کہ پاکستان کے سرکاری اداروں کے تجارتی ریکارڈ میں تریباً 11 ارب ڈالر کا فرق پایا گیا ہے، اور آئی ایم ایف نے اس پر وضاحت طلب کرلی ہے۔ عام زبان میں کہا جائے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے گھر کا ایک فرد کہے کہ اس نے 100 روپے خرچ کیے، اور دوسرا کہے کہ نہیں، 150 روپے خرچ ہوئے اب دونوں میں سے سچ کون بول رہا ہے؟

یہ فرق کسی چھوٹے حسابی مسئلے کا نہیں بلکہ ملکی معیشت کے اعتماد کا مسئلہ ہے۔ جب دو سرکاری ادارے خود ایک دوسرے سے متضاد اعداد و شمار دیں تو بیرونی دنیا کو یہ شک ہوتا ہے کہ شاید پاکستان کے اعداد و شمار قابلِ بھروسہ نہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس پر آئی ایم ایف نے سوال اٹھایا ہے اور وہ بالکل درست جگہ پر اٹھایا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فرق اس لیے پیدا ہوا کیونکہ پرانے کمپیوٹر سسٹم (PRAL) سے نیا سسٹم (Pakistan Single Window) شروع کیا گیا ہے، اور کچھ ڈیٹا ابھی مکمل طور پر منتقل نہیں ہوا۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ محض تکنیکی مسئلہ ہے، لیکن اگر ایسا نہیں اور کہیں جان بوجھ کر درآمدات یا برآمدات کم یا زیادہ دکھائی گئی ہیں تو پھر یہ ایک بہت بڑا اعتماد کا بحران ہے۔

یہ فرق محض ڈیٹا کا نہیں، بلکہ پاکستان کی ساکھ کا فرق ہے۔ جب عالمی ادارے یا سرمایہ کار دیکھتے ہیں کہ ملک کے اپنے ادارے ایک دوسرے کے نمبر پر متفق نہیں، تو وہ سوچتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کے باقی اعداد و شمار بھی شاید قابلِ اعتبار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شفافیت اس وقت سب سے زیادہ ضروری ہے۔

آئی ایم ایف کی تشویش صرف یہ نہیں کہ 11 ارب کہاں گئے، بلکہ یہ بھی ہے کہ حکومت نے یہ بات عوام سے چھپائی کیوں؟ اگر حکومت خود ہی ڈیٹا درستگی کے عمل کو شفاف رکھے، عوام کو اعتماد میں لے اور وضاحت کرے تو نہ صرف اعتماد بحال ہوگا بلکہ عالمی اداروں کے ساتھ تعلقات بھی مضبوط رہیں گے۔

جب حکومت کے اپنے اعداد و شمار میں اتنا بڑا فرق ہو تو اس کا اثر ملک کے قرضوں، ڈالر کی قیمت، مہنگائی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی پڑتا ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ محض ایک رپورٹنگ کی غلطی نہیں، بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ حکومت پاکستان اپنی معیشت کے بارے میں اپنی عوام کو اور دنیا کو کتنی سچائی سے بتاتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اظہر لغاری

wenews آئی ایم ایف اعداد و شمار امپورٹ ایکسپورٹ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف امپورٹ ایکسپورٹ وی نیوز ایم ایف

پڑھیں:

حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔

امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔

ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی