ویب ڈیسک :وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ  ملائیشیا ہمارا دوسرا گھر ہے، پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان بہترین تعلقات پائے جاتے ہیں۔

 ملائیشیا کے وزیر اعظم محمد انور ابراہیم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی طرف سے ملائیشیا کے والہانہ استقبال پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کو ترقی یافتہ بنانے میں انور ابراہیم کا اہم کردار ہے،  دوطرفہ تعلقات سے متعلق انور ابراہیم کا دورۂ پاکستان یادگار تھا، ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم نمایاں خصوصیات کے حامل شخصیت ہیں۔

کوئٹہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

 وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت بات چیت ہوئی،  آپ کے تجربے سے استفادے کے لیے مشترکہ منصوبوں کے خواہاں ہیں، ہمارے ملک کی بڑی تعداد میں طلبا ملائیشیا میں زیر تعلیم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر مالیت حلال گوشت کی برآمد کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں، حلال گوشت کی تجارت کو وقت کے ساتھ مزید بڑھائیں گے۔

 وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیراعظم کی کتاب اسکرپٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب اسلام آباد اور کوالالمپور کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گی۔

شہیدوں کی قربانیوں  پر ہزاروں حکومتیں قربان ہیں؛ حنیف عباسی

 اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے، وقت کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم ہوئے ہیں، ہمارے خطے میں استحکام کے لیے پاک بھارت امن اہم ہے۔

  وزیر اعظم آفس آمد پر ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے شہباز شریف کا استقبال کیا۔ وزیراعظم کو ملائیشیا کی مسلح افواج کے دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ استقبالیہ تقریب میں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔
 
 

دنیا کو نئے اقوام متحدہ کی ضرورت ہے ؛حافظ نعیم الرحمان،فلسطین کا دو ریاستی حل مسترد

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ملائیشیا کے وزیر انور ابراہیم شہباز شریف کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری