اقتدار چھوڑو ورنہ صفحۂ ہستی سے مٹ جاؤ گے، ٹرمپ کا حماس کو الٹی میٹم
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر حماس کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تنظیم نے غزہ کا اقتدار چھوڑنے سے انکار کیا تو اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔
سی این این کے مطابق، صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس نے غیر مسلح ہونے اور غزہ کا کنٹرول فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا، تو اسے “مکمل تباہی” کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر اپنے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے امکانات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ان کے امن منصوبے سے اتفاق کرتے ہیں اور اس پر عملدرآمد کے لیے تعاون پر آمادہ ہیں۔
ٹرمپ کے منصوبے میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی، حماس کا غیر مسلح ہونا اور غزہ کی حکمرانی کے لیے ایک غیر سیاسی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کی تجویز شامل ہے۔
دوسری جانب حماس نے ٹرمپ کے منصوبے پر محتاط مگر مثبت ردعمل دیا ہے۔ حماس کے رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ تنظیم فوری مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے قبل غیر مسلح نہیں ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کے مستقبل کا فیصلہ ایک جامع فلسطینی قومی فریم ورک کے اندر ہونا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔