منیبہ علی کا متنازع رن آؤٹ، بھارت کو شدید تنقید کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ویمنز ورلڈ کپ کے ایک سنسنی خیز میچ میں پاکستان کی اوپنر منیبہ علی کے متنازع رن آؤٹ نے ناصرف میدان میں کھیل کو کچھ دیر کے لیے روک دیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی بھارت کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آیا۔کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان کے 248 رنز کے ہدف کے تعاقب میں چوتھے اوور میں بھارتی بولر کرانتی گوڑ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو کی اپیل مسترد ہونے کے بعد اچانک ایک غیر معمولی رن آؤٹ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔منیبہ علی نے گیند کھیلنے کے بعد اپنا بیٹ کریز کے اندر زمین پر رکھا تھا، تاہم جیسے ہی بھارتی فیلڈر دیپتی شرما نے سلپ پوزیشن سے گیند اٹھا کر اسٹمپس کی طرف پھینکی، منیبہ نے بغیر کسی دوڑنے کی کوشش کے اپنا بیٹ دوبارہ ہلکا سا اوپر اٹھا لیا، اسی لمحے گیند اسٹمپس سے ٹکرا گئی اور بیلز گر گئیں۔امپائرز نے معاملہ تھرڈ امپائر کے سپرد کیا، جس کے بعد بڑی اسکرین پر پہلے ناٹ آؤٹ کا اشارہ ظاہر ہوا، مگر چند لمحوں بعد ہی فیصلہ آؤٹ میں تبدیل کر دیا گیا جس پر بھارتی کھلاڑیوں نے جشن منایا جبکہ منیبہ علی اور کپتان فاطمہ ثنا امپائرز سے وضاحت مانگتی رہیں۔موقع پر موجود شائقین اور ناظرین دونوں اس فیصلے سے حیران رہ گئے، کیونکہ آئی سی سی کے قانون کے مطابق اگر کوئی بلے باز اپنی کریز کی جانب دوڑتے یا ڈائیو کرتے وقت زمین سے عارضی طور پر رابطہ کھو دے تو اسے آؤٹ قرار نہیں دیا جاتا۔تاہم منیبہ علی واپس کریز کی جانب قدم بڑھا رہی تھیں، نہ کہ دوڑ رہی تھیں یہی پہلو اس فیصلے کو مزید متنازع بنا گیا۔رپورٹس کے مطابق تھرڈ امپائر کرن کلااسٹے نے ابتدا میں بیٹ کے دوسرے لفٹ کو نظرانداز کر دیا تھا، جس کے بعد دوبارہ ری پلے دیکھنے پر فیصلہ تبدیل کیا گیا۔پاکستان کی ٹیم نے فیلڈ میں کھڑے ہو کر امپائرز سے طویل مشاورت کی، جبکہ سدرہ امین جو اگلی بلے باز تھیں بھی میدان میں داخل ہونے سے رکی رہیں تاکہ فیصلے کی تصدیق ہو جائے۔یہ رن آؤٹ فیصلہ عام حالات سے کہیں زیادہ وقت لینے کے بعد کنفرم ہوا، جس کے بعد منیبہ علی صرف 2 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئیں اور پاکستان کا اسکور 6 رنز پر ایک کھلاڑی آؤٹ تھا۔یہ فیصلہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا اور شائقین نے بھارتی ٹیم کے اس اقدام کو غیر اسپورٹس مین لائیک قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔کئی صارفین نے کہا کہ اگرچہ قانون کے مطابق فیصلہ درست تھا، مگر کھیل کی روح کے لحاظ سے یہ غیر اخلاقی رویہ تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم