نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر نے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا پر حملہ کرنے کی کوشش نہ صرف عدلیہ پر حملہ ہے بلکہ ہماری جمہوریت، ہمارے آئین اور ہماری قوم کی توہین ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے صدر اور بزرگ لیڈر شرد پوار نے پیر کو سپریم کورٹ میں ہوئے اس واقعہ کی سخت مذمت کی، جس میں ہندوستان کے چیف جسٹس بی آر گوئی پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ شرد پوار نے کہا کہ یہ صرف عدلیہ پر حملہ نہیں ہے بلکہ ہندوستانی آئین اور جمہوریت کی سنگین توہین ہے۔ سابق مرکزی وزیر شرد پوار نے کہا کہ عدلیہ کا مقصد جمہوریت اور آئین کی اقدار کو برقرار رکھنا ہے، انصاف کے اعلیٰ ترین ادارے میں چیف جسٹس آف انڈیا پر حملہ کرنے کی کوشش نہ صرف عدلیہ پر حملہ ہے بلکہ ہماری جمہوریت، ہمارے آئین اور ہماری قوم کی توہین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ ملک میں جمہوری اقدار کے تحفظ اور اختلاف رائے کو منصفانہ انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ شرد پوار نے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں ملک کی بنیادی روح کے خلاف ہیں اور اسے کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ ملک میں آئینی اداروں کو کمزور کرنے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جو زہر پھیلایا جا رہا ہے وہ اب اعلیٰ ترین آئینی اداروں کا بھی احترام نہیں کرتا، یہ ملک کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ شرد پوار نے یقین دلایا کہ وہ ہندوستانی جمہوریت کے ستونوں کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے جب تمام جماعتوں اور شہریوں کو جمہوری اداروں کے وقار کے تحفظ کے لیے کھڑا ہونا چاہیئے۔

غور طلب ہے کہ پیر کو ایک ہندو انتہا پسند وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں شرمسار کر دینے والی حرکت انجام دی گئی اور یہ اس وقت ہوا جب کمرہ عدالت میں سماعت چل رہی تھی۔ موقع پر موجود وکلا اور دیگر افراد کے مطابق ایک 71 سالہ وکیل نے سماعت کے دوران "سناتن کا توہین، نہیں سہے گا ہندوستان" کا نعرہ لگاتے ہوئے چیف جسٹس بی آر گوئی پر اس وقت جوتا پھینکنے کی کوشش کی، جب وہ اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ کیس کی سماعت کر رہی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق سیکورٹی اہلکاروں نے ملزم کو فوری طور پر دبوچ لیا اور جوتا پھینکنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ بعد میں ملزم کی شناخت میور وہار کے رہنے والے راکیش کشور کے طور پر ہوئی۔ معاملے کو انتہائی سنگین بتاتے ہوئے بار کونسل آف انڈیا نے فوری کارروائی کر کے راکیش کشور کی وکالت کا لائسنس منسوخ کر دیا اور اس کی کاپی سپریم کورٹ کے ساتھ تمام ریاستی ہائی کورٹس کو بھی بھیج دی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: چیف جسٹس پر حملہ

پڑھیں:

محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت

سٹی 42 : وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے مستونگ کے قریب  سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری پر فائرنگ کی پرزور مذمت کی گئی ہے۔ 

 وزیرداخلہ محسن نقوی نے سیشن جج عبدالحکیم  اور  گن مین کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر اظہار افسوس کیا۔ محسن نقوی نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار  کیا۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے مرحومین  کی بلندی درجات کیلئے دعا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے زخمی جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری اور دیگر افراد کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

محسن نقوی نے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے پختہ عزم کو پست نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ دہشتگرد حملہ، وزیراعظم اور صدر مملکت کی شدید مذمت
  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم