وادی کشمیر میں متعدد مقامات پر انٹیلی جنس ایجنسی "ایس آئی اے" کی چھاپہ مار کارروائیاں جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
شوپیان ضلع کے ہیپورہ بٹہ گنڈ علاقے میں بھی ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مار کارروائی انجام دی گئی، جب کہ کولگام کے بوزگام کِلم علاقے میں بھی چھاپے مارے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ اسٹیٹ انویسٹیگیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے آج صبح مقبوضہ کشمیر کے جنوبی، شمالی اور مرکزی اضلاع سمیت وادی بھر میں متعدد مقامات پر بیک وقت چھاپہ مار مارا ہے۔ ان کارروائیوں میں پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ چھاپے شوپیاں اور کولگام سمیت کشمیر بھر کے متعدد اضلاع میں جاری ہیں۔ اس دوران شوپیان ضلع کے ہیپورہ بٹہ گنڈ علاقے میں بھی ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مار کارروائی انجام دی گئی، جب کہ کولگام کے بوزگام کِلم علاقے میں بھی چھاپے مارے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق کارروائی کے دوران بھارتی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ایس آئی اے نے گھروں کی تلاشی لی۔ تاہم یہ کارروائیاں کن مخصوص معاملات کے سلسلے میں کی گئیں، اس بارے میں تاحال ایس آئی اے کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کچھ روز قبل شوپیان ضلع میں قومی تحقیقاتی ایجنسی نے اسی طرح ایک چھاپے مار کاروائی کے دوران ایک عسکریت پسندوں کے معاونین کی جائیداد اٹیچ کی تھی۔
پچھلے ماہ بھی کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) نے سنیچر کو وادی کے سات اضلاع میں آٹھ مقامات پر چھاپے مارے اور دہشتگردی سے منسلک ایک معاملے کی جانچ کے سلسلے میں تلاشی لی۔ سابقہ چھاپوں سے متعلق حکام بتایا تھا کہ یہ چھاپے سرینگر، بارہمولہ، اننت ناگ، کپواڑہ، ہندواڑہ، پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں مارے گئے۔ اس دوران ایجنسی کی طرف سے درج ایک مقدمے کے سلسلے میں مجاز عدالت کے جاری کردہ وارنٹ کے تحت مختلف مقامات کی تلاشی لی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علاقے میں بھی چھاپہ مار چھاپے مار
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔