data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (اسپورٹس ڈیسک )پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا اور کوچ مائیک ہیسن کے درمیان جنوبی افریقا کے خلاف سیریز اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے تبادلہ خیال ہے ، کپتان اور کوچ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو دیکھتے ہوئے قومی ٹیم کے کمبی نیشن کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ٹیم منیجمنٹ کے تھنک ٹینک کی سلیکشن کمیٹی کے ساتھ جلد بیٹھک متوقع ہے اور ممکن ہے جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران وائٹ بال ٹیم کا کیمپ شروع کیا جائے گا جس کے لئے ممکنہ کھلاڑیوں کے نام جلد سامنے آجائیں گے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں دو سابق کپتانوں بابر اعظم اور وکٹ کیپر محمد رضوان کی واپسی کا امکان نا ہونے کے برابر ہے کیونکہ اطلاعات ہیں کہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے موجودہ کپتان سلمان علی آغا جن کی قیادت کے حوالے سے بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کو کسی قسم کے تحفظات نہیں ہیں، وہ جنوبی افریقا کے خلاف سیریز میں نمبر تین پر بیٹنگ کریں گے۔پاکستان کے لئے 32 ٹی ٹوئنٹی میں 110.

21 کے اسٹرائیک ریٹ سے 561 رنز بنانے والے دائیں ہاتھ کے بیٹس مین نے ایشیا کپ کے 7 میچوں میں 72 رنز بنائے تھے، ان کی اس کارکردگی پر کپتان کو تنقید کا سامنا ہے، البتہ بورڈ اور ٹیم کے کوچ مائیک ہیسن آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل کپتانی کی تبدیلی کے لئے تیار نہیں ہیں۔دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ایشیا کپ کے 7 میچوں میں چار بار صفر پر آوٹ ہونے والے صائم ایوب جنہیں ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا ہے، وائٹ بال کرکٹ میں ان پر اعتماد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ وکٹ کیپر محمد حارث بھی خطرے میں نہیں ہیں، البتہ فاسٹ بولنگ میں حارث رف کی جگہ دیگر فاسٹ بولرز کو موقع دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کوچ مائیک ہیسن اور کپتان سلمان علی آغا پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے ایشیا کپ کے فائنل میں شکست پر افسردہ ضرور ہیں لیکن وہ اس ٹیم کو تسلسل کے ساتھ موقع دینے کے حق میں ہیں اور اس بات کے امکانات نا ہو نے کے برابر ہیں کہ سابق کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر محمد رضوان کو جنوبی افریقا کے خلاف ٹی 20 اسکواڈ میں موقع دیا جائے گا۔

اسپورٹس ڈیسک گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جنوبی افریقا کے خلاف پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا