ہم حماس کی پُشت پر کھڑے ہیں، جو فیصلہ حماس کا ہوگا وہ فیصلہ ہم سب کا ہوگا: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
---فائل فوٹو
جماعتِ اسلامی کے امیر، حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم حماس کی پُشت پر کھڑے ہیں، جو فیصلہ حماس کا ہوگا وہ ہمارا فیصلہ ہوگا، حماس کا دفتر اسلام آباد میں بنانا چاہیے۔
حافظ نعیم نے اسلام آباد میں غزہ ریلی سے خطاب کے دوران کہا کہ جماعت اسلامی مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، فلسطینیوں کے لیے سب کچھ کر سکتے ہیں، حماس کے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں، فلسطین کے شہدا کے ساتھ کھڑے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سب کی نظریں ہیں، کسی مغربی ملک کے پریشر کو قبول نہ کریں، ہم نے انہونی کو ہونی کر دکھایا تھا، شیروں کی حکومت ہوگی تو پوری قوم شیر بن جائے گی۔
غزہ سول ڈیفنس کا کہنا ہے غزہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے اعلان کے بعد بھی اسرائیلی حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین میں 20 ہزار بچے شہید ہوئے، اسرائیل مرتد ہے، ناجائز ریاست ہے، بیت المقدس آزاد ہوگا، مسجد اقصیٰ آزاد ہوگی۔
اِن کا کہنا تھا کہ ہمت و جراّت سے کام لیں، ہمیں اپنے عمل کو ٹھیک رکھنا ہے، دین اور دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔