غزہ میں جنگ بندی امن کیلئے نادر موقع،پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ کھڑ ا ہے،محمد عارف
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
غزہ میں جنگ بندی امن کیلئے نادر موقع،پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ کھڑ ا ہے،محمد عارف WhatsAppFacebookTwitter 0 9 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )بانی تحریک انقلاب پاکستان محمد عارف نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ امن منصوبے کی بنیاد پر غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر فریقین کے درمیان معاہدہ طے پانے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔اپنے ایک جاری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ امن منصوبے کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں بھی قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ طے پانے میں امریکہ، قطر، مصر اور ترکی کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔
محمد عارف نے فریقین سے اپیل کی کہ ہو معاہدے کی شرائط پر مکمل عملدرآمد کریں اور مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے مظلوم فلسطینیوں نے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔اس خطے میں لڑائی ہمیشہ کے لیے بند ہونی چاہیے اور غزہ میں انسانی امداد اور ضروری تجارتی سامان کی فوری اور بلا روک ٹوک داخلے کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہاں مصائب کا خاتمہ ہ
و۔انہوں نے کہا ہے کہ غزہ میں پائیدار اور انسانی امداد کی تیز فراہمی کو یقینی بنائے گا، اور غزہ میں بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں کو آگے بڑھائے ۔پاکستان اس حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطی میں پائیدار امن کے قیام کی امید ہے۔ فلسطینی عوام نے ناقابل بیان مصائب برداشت کیے ہیں، ایسی تکلیف دہ صورتحال دوبارہ کبھی نہیں دہرائی جانی چاہیے۔ غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کے معاہدے کا اعلان تاریخی موقع ہے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجیل میں بیٹھا شخص دہشت گردوں کا چیف اسپانسر ہے جس نے دہشت گردوں کو واپس لاکر بسایا، عطا تارڑ جیل میں بیٹھا شخص دہشت گردوں کا چیف اسپانسر ہے جس نے دہشت گردوں کو واپس لاکر بسایا، عطا تارڑ وزیراعظم اور چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال اور اہم قومی امور پر بات چیت آئینی ترمیم کے بعد ترقی پانے والے ججز کو بنچ میں نہیں بیٹھنا چاہئے: جسٹس مسرت بھارت پراپیگنڈے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی چھپا نہیں سکتا:پاکستان اسرائیل، حماس امن معاہد ہ طے ، اسرائیل کی دو سالہ بربریت کا خاتمہ، غزہ میں جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل شبلی فراز کی خالی سینیٹ نشست پر انتخاب، رہنما پی ٹی آئی عرفان سلیم نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔