ٹی ایل پی احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کا ریڈ زون سیل کرنے کا فیصلہ، میٹرو بس سروس بند
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج اور ریلی کے پیش نظر انتظامیہ نے اسلام آباد کے داخلی راستوں اور ریڈ زون کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ کے فیصلے کے بعد 70 سے زائد کنٹینر اسلام اباد پہنچا دیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ پولیس کی بھاری نفری داخلی راستوں پر تعینات کیا جائے گا اور ریڈ زون اور ایکسٹینڈڈ ریڈ زون کو بھی مکمل سیل کیا جائے گا۔
انتظامیہ نے نقص امن کے خطرے کے پیش نظر اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کو کل تک بند کردیا ہے جبکہ کل مری رڈ سے ملحقہ تمام سڑکوں پر قائم سرکاری و پرائیوٹ اسکولز بند رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
اس کے علاوہ راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر زرعی یونیورسٹی میں کل چھٹی کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کے باعث تدریسی و انتظامی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام شعبہ جات کے سربراہان کو نوٹیفکیشن ارسال کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد کے پیش نظر ریڈ زون
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔