غزہ امن معاہدے کی منظوری کیلئے طلب کیا گیا اسرائیلی کابینہ کا اجلاس تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
غزہ امن معاہدے کی منظوری کیلئے طلب کیا گیا اسرائیلی کابینہ کا اجلاس تاخیر کا شکار WhatsAppFacebookTwitter 0 9 October, 2025 سب نیوز
غزہ(آئی پی ایس )غزہ امن معاہدے کی منظوری کے لیے طلب کیا گیا اسرائیلی کابینہ کا اجلاس تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کابینہ کا اجلاس، جس میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری کا فیصلہ ہونا تھا، ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے کان کے مطابق مخر کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق اب یہ اجلاس مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے ( پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے ) منعقد ہوگا۔اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے اس سے قبل بتایا تھا کہ کابینہ اور حکومتی اجلاس مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے شروع ہوں گے۔تاہم اب کئی اسرائیلی میڈیا ادارے یہ خبر دے رہے ہیں کہ ترجمان کی جانب سے طے کردہ شیڈول میں تاخیر ہو گئی ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کی ترجمان شوش بدرسیان نے کہا تھا کہ اگر آج شام ہونے والے اسرائیلی کابینہ اجلاس میں شرکا نے امن معاہدے کے پہلے مرحلے کی شرائط کو منظور کر لیا، جس کی آج صبح قاہرہ میں منظوری دی گئی تھی، تو غزہ میں جنگ بندی کابینہ اجلاس کے 24 گھنٹوں کے اندر شروع ہو جائے گی۔بی بی سی کے غزہ میں موجود نمائندے نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ جنگ بندی اسرائیلی حکومت کی منظوری کے فورا بعد نافذ ہونے کی توقع ہے۔
میڈیا بریفنگ کے دوران بدرسیان نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے ( پاکستانی وقت شام 7 بجے) کابینہ کا اجلاس ہوگا، جس کے ایک گھنٹے بعد حکومتی اجلاس منعقد کیا جائے گابدرسیان نے کہا تھا کہ کابینہ اجلاس کے 24 گھنٹے بعد غزہ میں جنگ بندی شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا تھا کہ اس کے بعد اسرائیلی دفاعی افواج ایک نئی لائن پر دوبارہ تعینات ہوں گی، جس کے نتیجے میں فوج غزہ کی پٹی کے تقریبا 53 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کرے گی۔
شوش بدرسیان کے مطابق، اس کے بعد حماس کو باقی مغویوں کی حوالگی کے لیے 72 گھنٹوں کی مدت دی جائے گی۔قبل ازیں آج ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ میں بہت فخر سے اعلان کرتا ہوں کہ اسرائیل اور حماس دونوں نے ہمارے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام یرغمالیوں کو بہت جلد رہا کر دیا جائے گا، اور اسرائیل اپنی افواج کو ایک متفقہ لائن تک پیچھے ہٹا لے گا، جو ایک مضبوط، پائیدار اور دائمی امن کی طرف پہلا قدم ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے استعفی دے دیا سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے استعفی دے دیا ”بس بہت ہو گیا” اب دہشت گردوں کا سر کچلنا ہوگا: وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن معاہدے کے بعد ٹرمپ کا دورہ اسرائیل متوقع، کنیسٹ سے خطاب کا امکان افغانستان کے وزیرِ خارجہ کا پہلا دورہ بھارت؛ افغان پرچم کا معاملہ بھارتی حکام کے لیے آزمائش بن گیا افغان سرزمین سے دہشت گردی ہو رہی ہے یہاں چند لوگ ان کی مذمت کرنے سے کتراتے ہیں، وزیردفاع نوبیل امن انعام کا فیصلہ کل ہوگا : ٹرمپ کی شدید خواہش پوری ہوگی یا دل ٹوٹے گا؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسرائیلی کابینہ کا اجلاس معاہدے کی منظوری غزہ امن معاہدے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔