گورنر بغیر این او سی علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں کرسکتے: حافظ حمد اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
---فائل فوٹو
جے یو آئی کے رہنما حافظ حمد اللّٰہ نے کہا ہے کہ بغیر این او سی کے خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی، علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں کر سکتے۔
حافظ حمد اللّٰہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی کے بعد اِس سے بھی بدترین صورتحال ہوگی۔
حافظ حمد اللّٰہ کا کہنا ہے کہ کیا گوجرانوالہ میں تین سابق وزرائے اعظم کے خلاف غداری کے پرچے نہیں ہوئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتیں جتنا حکومت بنانے سے دور رہیں اتنا ہی سیاسی جماعتوں کا فائدہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حافظ حمد الل
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔