ٹرمپ کا خواب پورا نہ ہوسکا، امن کا نوبل انعام کسی اور کو مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن کا نوبل انعام حاصل کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا اور 2025 کےلیے امن کا نوبل انعام وینزویلا کی ماریہ کورینا مچاڈو کو مل گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سال امن کے نوبل انعام کے امیدواروں میں شامل تھے۔ انھیں مالٹا کے وزیر خارجہ ایان بورگ نے نامزد کیا گیا جن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے نمایاں کوششیں کی ہیں۔
تاہم نوبل کمیٹی نے طویل غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اس سال کا انعام ان شخصیات کو دیا جو جمہوریت کے فروغ اور انسانی آزادی کےلیے براہ راست میدان میں سرگرم رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سال امن انعام کےلیے خاصے پرامید تھے اور اعلان سے چند گھنٹے قبل ہی انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجھے یہ انعام نہیں دیا جاتا تو یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی توہین ہوگی۔
دوسری جانب ٹرمپ کی ناکامی پر بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نوبل کمیٹی نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ امن کے قیام کےلیے صرف سیاسی بیانات نہیں بلکہ عملی جدوجہد اور قربانی درکار ہوتی ہے۔
ٹرمپ کے اس ناکامی پر سوشل میڈیا پر طنزیہ تبصرے دیکھے جا رہے ہیں۔ صارفین تبصرے میں کہہ رہے ہیں کہ امن کے نوبل انعام کےلیے صرف ’’پیس میکر‘‘ ہونا کافی نہیں، بلکہ مسلسل اور ثابت کارکردگی کا ہونا شرط ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔