نوبل انعام کا اعلان آج متوقع، ٹرمپ کے حامیوں کی مہم عروج پر پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں آج امن کے نوبل انعام کا اعلان کیا جا رہا ہے اور اس موقع پر دنیا کی نظریں ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مرکوز ہیں، جو اس انعام کے لیے غیر معمولی طور پر پُرامید نظر آ رہے ہیں۔
اعلان سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر مجھے نوبل انعام نہیں دیا جاتا تو یہ ہمارے ملک کے لیے بہت بڑی توہین ہوگی۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کے قریبی حلقے انہیں عالمی امن کے لیے کئی اہم پیش رفتوں کا کریڈٹ دیتے ہیں ، جن میں غزہ جنگ بندی معاہدہ، ابراہام ایکارڈز اور کووِڈ ویکسین کی فوری تیاری شامل ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے 7 جنگوں کو ختم کیا اور روس۔یوکرین تنازع کے حل کی بنیاد بھی رکھ دی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب نوبل انعام کے اعلان میں صرف 2 دن باقی تھے اور واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اسی ٹائم لائن نے فریقین پر دباؤ ڈالا تاکہ معاہدہ جلد مکمل ہو سکے۔ اس سے سیاسی مبصرین نے یہ تاثر لیا کہ ٹرمپ اس امن پیش رفت کو نوبل انعام کی دوڑ میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان، اسرائیل، کمبوڈیا اور تائیوان نے باضابطہ طور پر ٹرمپ کو نامزد کیا ہے، جب کہ امریکہ میں بھی کئی اہم شخصیات جن میں Pfizer کے سی ای او البرٹ بورلا اور سینیٹر بل کیسیڈی ٹرمپ کو امن انعام کے لیے موزوں قرار دے چکے ہیں۔
اوسلو کے پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ڈائریکٹر نینا گریگر کے مطابق نوبل انعام ہمیشہ پچھلے سال کی کارکردگی کی بنیاد پر دیا جاتا ہے اور 2024 میں ٹرمپ منتخب تو ہو گئے تھے، مگر انہوں نے منصب نہیں سنبھالا تھا، لہٰذا ان کی موجودہ سرگرمیوں کو فیصلے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔
نوبل کمیٹی کے سربراہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس سال کا فیصلہ پیر کے روز ہی ہو چکا ہے ، یعنی اعلان سے قبل ہی تمام فائلیں بند ہو چکی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال کی ممکنہ فہرست میں ٹرمپ کا نام شامل نہیں بلکہ ایسے ادارے زیر غور ہیں جن سے ٹرمپ کے تعلقات اکثر کشیدہ رہے، جیسے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ)۔
اس کے باوجود ٹرمپ کے حامی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ امریکی سینیٹر بل کیسیڈی اور نمائندہ کلاڈیا ٹینی نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس سال ٹرمپ کو انعام نہ ملا تو وہ اگلے سال دوبارہ نامزد کریں گے۔
موجودہ صورت حال کے تناظر میں دنیا اب یہ دیکھنے کو بے تاب ہے کہ آیا نوبل کمیٹی ٹرمپ کے امن معاہدوں اور سفارتی دعووں کو انعام کے قابل سمجھتی ہے یا نہیں، کیونکہ اگر آج بھی ان کا نام سامنے نہ آیا تو یہ تنازع محض ایک سیاسی مہم تک محدود رہ جائے گا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انعام کے ٹرمپ کے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان الیکشن کی تاریخ کے آخری ہفتے میں انتخابی مہم زروں پر پہنچ گئی ہے، وفاقی جماعتوں کے تقریباً تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں اور اپنے اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو زرداری نے سکردو میں جلسہ سے خطاب کیا۔ پیپلزپارٹی کے دیگر قائدین قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن، چوہدری منظور پہلے ہی گلگت بلتستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، خواجہ سعد رفیق بھی جی بی میں موجود ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔