کرپشن رپورٹ کے اجرا میں تاخیر آئی ایم ایف سے معاہدے میں رکاوٹ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
کرپشن رپورٹ کے اجرا میں تاخیر آئی ایم ایف سے معاہدے میں رکاوٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )بیرونی مالیاتی یقین دہانی حاصل کرنے میں ناکامی اور گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ رپورٹ کے اجرا میں تاخیر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے۔معاہدہ اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں کے تحت کل نو جدولوں میں سے، توازن ادائیگی اور بیرونی مالیاتی ضروریات کے امور حل طلب رہے۔اعلی سرکاری ذرائع نے دی نیوز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اب یہ امید کی جا رہی ہے کہ یہ جدول آئندہ ہفتے پر کر لیے جائیں گے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جی سی ڈی اسسمنٹ رپورٹ ایک ساختی معیار ہے اور اسے ابھی تک جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تیسری بات، سیلابی نقصان کی تفصیلات ابھی تک مکمل نہیںاس لیے آئی ایم ایف حتمی تخمینے حاصل کرنے کا منتظر ہے۔ سرکاری موقف جاننے کے لیے بھرپور کوششیں کیں، لیکن تمام تر کاوشوں کے باوجود وزارت خزانہ کے اعلی حکام نے خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ تاہم حکام نے امید ظاہر کی کہ حل طلب امور آئندہ ہفتوں میں طے پا جائیں گے تاکہ اگر دونوں فریق باہمی رضامندی سے معاملات حل کر لیتے ہیں تو اسٹاف لیول معاہدہ اگلے 7 سے 15 دنوں میں کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چند منتخب رپورٹرز کو بتایا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات مثبت رہے ہیں اور اسٹاف لیول معاہدے پر دستخط محض وقت کی بات ہے، جو مناسب وقت پر کر دیے جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ توازن ادائیگی اور بیرونی مالیاتی امور جدول نمبر 3 کا حصہ ہیں، کیونکہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے آئی ایم ایف مشن نے کثیرالقومی اور دو طرفہ قرض دہندگان سے تصدیق طلب کی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے اپنا بیان جمعہ کی علی الصبح اس وقت جاری کرنے کو ترجیح دی جب ان کا دورہ کرنے والا مشن اسلام آباد سے روانہ ہوا۔ واشنگٹن ڈی سی سے جمعہ کو جاری ہونے والے آئی ایم ایف کے ایک بیان کے مطابق، ایوا پیٹرووا کی قیادت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا ایک وفد ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت دوسرے جائزے اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت پہلے جائزے پر بات چیت کے لیے 24 ستمبر سے 8 اکتوبر 2025 تک کراچی اور اسلام آباد کے دورے پر رہا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسعودی سرمایہ کاروں کا خیر مقدم کرتے ہیں، حکومت برآمدات بڑھانے کیلیے پرعزم ہے، وزیر خزانہ دہشت گردی کے پیچھے گٹھ جوڑ کو مقامی اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے: ترجمان پاک فوج ہزاروں طالبان کو عمران خان نے پاکستان لا کر بسایا ،خواجہ آصف راستے بند، ارکان غیر حاضر؛ سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت تک کےلئے ملتوی توشہ خانہ ٹوکیس؛بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کا 342 کا اہم بیان سامنے آگیا امریکا کا غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے 200 اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ فلپائن میں 7.6 شدت کا زلزلہ ، سونامی کی وارننگ جاری
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔