925ارب ڈالر کا امریکی دفاعی بجٹ منظور، یوکرین کیلیے 50کروڑ ڈالر مختص
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن:۔ امریکی سینیٹ نے مالی سال 2026 کے لیے 925 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی ہے، جس میں یوکرین کے لیے 500ملین (50کروڑ) ڈالر کی امداد بھی شامل ہے۔
مالی سال یکم اکتوبر سے شروع ہو چکا ہے۔ تاس کے مطابق یہ بل 77 ووٹوں کی حمایت اور 20 ووٹوں کی مخالفت کے ساتھ منظور ہوا، جبکہ منظوری کے لیے کم ازکم 60 ووٹ درکار تھے۔
سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ بل “یوکرین سکیورٹی اسسٹنس انیشی ایٹو” کو 2028تک توسیع دیتا ہے اور اس پروگرام کی فنڈنگ 500ملین ڈالر تک بڑھا دی گئی ہے۔ اس پروگرام کے تحت پینٹاگون یوکرین کو براہ راست اسلحہ فراہم کرنے کے بجائے دفاعی ساز و سامان تیار کرنے والی کمپنیوں سے معاہدے کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر میں امریکی ایوانِ نمائندگان (کانگریس کا ایوانِ زیریں) نے بھی اپنے طور پر تقریباً 900ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری دی تھی، جس میں یوکرین کے لیے 400 ملین ڈالر مختص کیے گئے تھے۔اب دونوں ایوانوں کی جانب سے منظور شدہ بلوں پر مشتمل حتمی مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس کے بعد یہ بل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔
یہ بجٹ ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب امریکا عالمی سطح پر سکیورٹی چیلنجز، یوکرین جنگ اور بحرالکاہل میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے تناظر میں اپنی دفاعی پوزیشن مزید مضبوط کر رہا ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
یوکرین :یہودیوں کی 180 برس پرانی عبادت گاہ نذرآتش
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-01-2
سدیگورا (مانیٹرنگ ڈیسک) یوکرین کے شہر سدیگورا میں واقع تاریخی کنیسہ (یہودی عبادت گاہ) جسے کلویز قدیشہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،رات گئے نذرآتش کردیا گیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک شخص کسی طرح کنیسہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا اور آگ لگادی۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ شخص انتظار میں تھا اور جیسے ہی سیکورٹی گارڈ چند لمحوں کے لیے کسی کام سے گیا۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشتبہ شخص کنیسہ میں گھس گیا۔تاریخی یہودی عبادت گاہ میں آگ لگنے سے مقدس کتب جل گئیں اور عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے البتہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ملزم کو سیکورٹی گارڈ نے قابو میں کرکے پولیس کے حوالے کردیا جس سے تھانے میں کافی دیر پوچھ گچھ کی گئی۔ادھر مقامی حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہی شخص تقریباً ایک ماہ قبل اسی علاقے میں ایک گرجا گھر کو بھی آگ لگانے میں ملوث تھا۔پولیس کے بقول ابتدائی تفتیش سے لگتا ہے کہ ملزم ذہنی امراض کا شکار ہے اور غیر متوازن شخصیت ہے تاہم اس کا نفیساتی معائنہ کرانا ابھی باقی ہے۔
یوکرین میں یہودیوں کی 180سالہ عبادت گاہ کو نذر آتش کرنے کے بعد کا منظر